وزیر اعلی سندھ نے انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی منظوری کے علاوہ نگرانی کے لیے چھ رکنی کمیٹی کی منظوری بھی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس صورتحال سے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے افسران سخت پریشانی کا شکار ہیں۔
بھرچونڈی شریف کا غریب محنت کش ایڈز میں مبتلا ہونے والی ایک سالہ معصوم بیٹی کو دفنانے کے بعد اپنے ’جیون ساتھی‘ کی چارپائی کے سرہانے کھڑا اس کی سانسیں گن رہا ہے۔
وفاقی مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کے سامنے سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے سربراہ نے فنڈز نہ دیے جانے کا رونا رویا تو عالمی ادارہ صحت کی کنٹری ہیڈ نے عالمی قوانین پر عمل درآمد نہ کرانے کے الزامات عائد کرد یے۔



