پاکستان کی کوششوں کے بغیر افغان دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا انعقاد ناممکن تھا، زلمے خلیل زاد
اس دورے میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی آرمی چیف کے ہمراہ ہیں
امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے 8 مئی کو پاکستان کا دورہ کیا، امریکی سفارت خانے کااعلامیہ
ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پرتبادلہ خیال، آئی ایس پی آر
امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ میں افغانوں سے کہوں گا اُن کے لیے یہ تاریخی موقع ہے اور وہ سب سے پہلے ملک کو سامنے رکھیں اور آگے بڑھیں۔
افغانستان میں دائمی امن و استحکام کے لیے پاکستان اپنی کوششیں جاری رکھے گا، وزیر خارجہ
امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات دکھائی دے رہے ہیں۔
ملاقات میں افغان مفاہمتی عمل اور مجموعی علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، آئی ایس پی آر
وزیر اعظم عمران خان سے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے ملاقات کی
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام چاہتا ہے اور وزیر اعظم عمران خان چاہتے ہیں افغان عمل آگے بڑھے۔
طالبان کا وفد پاکستان کی قیادت کو امریکہ کے ساتھ جاری افغان امن مذاکرات کی معطلی کی وجوہات کے متعلق آگاہی دے گا
امکان ہے کہ دوحہ، قطر میں منسوخ ہونے والے افغان امن مذاکرات کا ایک مرتبہ پھر آغاز ہوجائے۔ سیاسی مبصرین
زلمے خلیل زاد پاکستان میں اہم شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی اور انہیں کشمیر کی صورتحال سے آگاہ بھی کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کے فیصلے کے بعد پہلی مرتبہ کمیٹی کی جانب سے کسی اہم شخصیت کو طلب کیا گیا ہے۔ زلمے خلیل زاد 19 ستمبر کو قانون سازوں کے سامنے پیش ہو کر بریفنگ دیں گے۔













