پشاور سے کراچی جانے والی خوشحال خان خٹک ایکسپریس کو رادھن ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا ہے۔
شہر قائد کے باسیوں کا کہناہے کہ ٹریک کے اطراف آباد لوگوں کو منتقل کیے بغیر سرکلر ریلوے کی بحالی ممکن نہیں ہے۔
محمد اسد علی خان جونیجو کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس ہوا جس میں ریلوے کے بڑھتے ہوئے حادثات کا جائزہ لیا گیا۔
ریلوے کے اکاؤنٹ میں 432 ملین روپے کی خطیر رقم موجود ہے مگر اس کے باوجود غریب ملازمین کی تنخواہ کا چیک باؤنس ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔
حادثے کے باعث اپ اور ڈاؤن ٹریک بند ہوگئے ہیں۔ ریلوے حکام کی جانب سے امدادی ٹرین روہڑی سے متاثرہ مقام کی جانب روانہ کردی گئی ہے۔
بہاؤالدین ذکریا ایکسپریس کا انجن بریک فیل ہونے کے بعد لوپ لائن پر حفاظتی دیوار سے ٹکرایا اور رک گیا۔
سن: سندھ کے علاقے سن کے قریب کراچی سے پشاور جانے والی خوشحال خان خٹک ایکسپریس پٹری سے اتر گئی…






