یہ بغیر کسی کمپیوٹر یا دماغی کنٹرول کے خودکار طور پر ہم آہنگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں
یہ ٹیکنالوجی مختلف روبوٹک ڈھانچوں میں سیکھے گئے انفارمیشن کو منتقل بھی کر سکتا ہے
ماہرین کا خیال ہے کہ ہر روبوٹ کی قیمت10 ہزار ڈالر سے زائد ہے۔
ٹوکیو کی بزنس پریک تھرو یونیورسٹی میں طلبہ کے بجائے نمائندہ روپوٹس سے ڈگریاں وصول کیں
قیاس کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی ٹیکنالوجی صحت کے شعبہ کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی۔
قابض بھارتی فوج ان روبوٹس کو مقبوضہ کشمیر میں تلاشی آپریشوں کے دوران پہلی دفاعی لائن کے طور پر استعمال کرے گی۔
مستقبل قریب میں لوسی نامی ایک روبوٹ مہمانوں کا استقبال کیا کرے گی اور ریستوران میں ویٹریس کا کام بھی سرانجام دے گی۔






