ہم جمہوری لوگ ہیں بات چیت کیلیے تیارہیں، وزیر اعظم
ق لیگ کے رہنما کہتے ہیں ہمیں نئی حکومتی کمیٹی کی سمجھ نہیں آئی
خالد مقبول صدیقی کی جانب سے استعفیٰ واپس لینے کا تاثر غلط ہے، ترجمان ایم کیو ایم
حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے مطالبات، تحفظات اور خدشات سے آگاہ کردیا۔
مولانا فضل الرحمان کے ساتھ وزیراعظم کے استعفے اور وقت سے قبل عام انتخابات کرانے کے مطالبات پر بات نہیں ہو سکتی۔
وزیراعظم عمران خان کے استعفے کی باتیں صرف کنٹینر تک محدود ہیں۔ وفاقی وزیر نورالحق قادری کا دعویٰ
اگر دو دن بعد حالات ان کے قابو میں نہ ہوئے تو پھر شاید ہمارے قابو میں بھی نہ رہیں۔ رکن حکومتی کمیٹی نورالحق قادری کا انتباہ
حزب اختلاف کی تمام باتیں مانیں اب اگر خلاف ورزی کی تو کارروائی کریں گے، وزیر دفاع
جے یو آئی (ف) کا معاہدہ اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ ہوا ہے تو وہ برقرار ہے۔ امیر جمعیت العلمائے اسلام
دونوں کمیٹیوں نے اتفاق رائے کیا ہے کہ رابطوں کا سلسلہ برقرار رہے گا لیکن اس حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا گیا ہے۔
کمیٹیوں کے درمیان صرف ایک نکتے پر بات چیت ہوئی اور اس پر بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
حکومتی کمیٹی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مزید مشاورت کے لیے چلی گئی ہے۔ کنوینر رہبر کمیٹی اکرم خان درانی
اپوزیشن کے چار نکات میں وزیراعظم عمران خان کا استعفیٰ، نئے انتخابات کا انعقاد، آئین میں موجود اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالا دستی شامل ہیں۔
محمد علی درانی نے مولانا فضل الرحمان سے تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اہم کردار اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی اور وزیر دفاع پرویز خٹک نے ادا کیا ہے۔











