خاندان کو شدید الزامات ، دھمکیوں اور توہین کا سامنا تھا ، جواد ظریف کا انکشاف
امن کی خاطر جنگ میں بہادری دکھانے کے بجائے امن میں بہادری دکھانا زیادہ اہم ہے، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی زیر قیادت فریقین کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور
وزیر خارجہ جواد ظریف ایک ایسے وقت میں اسلام آباد پہنچے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو انتخابات میں شکست ہو چکی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے پابندیاں ہٹانے کی کاوشوں پر وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔
امریکہ کی بلیک میلنگ اورسازشی مہم سےمغلوب نہیں ہوں گے، کسی بھی وقت جواب دینےکا حق رکھتے ہیں، جواد ظریف
ملاقات کے دوران ایرانی صدر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم آج ایران کے ایک روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے جہاں ان کی ملاقات صدر حسن روحانی سے متوقع ہے
دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر باہمی مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیاہے۔
امریکہ، ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی معاونت حاصل کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو
ایران کو اس حوالے سے مطلع نہیں کیا گیا اور نہ ہی بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کس بنیاد پر کی جارہی ہیں؟ وزیرخارجہ جواد ظریف
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرنے کا حکم گزشتہ روز دیا۔
ایران پر الزام لگانے سے تباہی ختم نہیں ہو گی۔ ایرانی وزیرخارجہ کا جواب
جارحیت پسند افغانستان کی موجودہ نئی صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جس کی وجہ سے قتل و غارت گری کی نئی لہر شروع ہوسکتی ہے۔ جواد ظریف کا انتباہ
ایرانی حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں ہیں لیکن جس طرح ایرانیوں کو زندگی گزارنے پہ مجبور کیا جا رہا ہے وہ بھی نا قابل قبول ہے۔
جواد ظریف اچانک فرانس میں منعقد ہونے والے جی -7 سربراہی اجلاس میں اچانک پہنچے تو امریکی وفد پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔













