ملک میں مارشل لاء کا دور، جمہوریت صرف کاغذوں میں باقی ہے
مسلم لیگ میں ہوں اور رہوں گا ، تحریک انصاف اب اس بات پر آ گئی جو میں ہمیشہ کہتا رہا
زین قریشی اور مہربانو قریشی نے بھی کنونشن میں شرکت کرنا تھی
اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہوتے ہوئے اپنا سیاسی وزن تحریک انصاف اور عمران خان کے پلڑے میں ڈالتا ہوں، سینئر سیاستدان
پی ٹی آئی کا کوئی امیدوار نہیں ہوگا،اگر یہ نتائج نا ہوں تو میرا نام بدل دینا، سینئر سیاستدان
ان کے پاس بہت وسائل ہیں لیکن میرے ساتھ اللہ کی ذات ہے اور اس کے بعد این اے 149کے عوام ہیں، سینئر سیاستدان
مسلم لیگ(ن)میں بھی انٹرا پارٹی الیکشن ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے پی ٹی آئی میں ہوئے جہاں لوگ بلامقابلہ منتخب ہو جاتے ہیں، سینئر سیاستدان
اکثریت کی رائے کے مطابق موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی پاپولر جماعت ہے
نواز شریف کمپرومائز کر لیتے ہیں جس کی سزا پوری قوم بھگتتی ہے
نواز شریف مجھے ٹکٹ دینا چاہتے ہیں لیکن انہیں کوئی روک رہا ہے ، پاپولر ووٹ کے باوجود پی ٹی آئی کو اقتدار نہیں ملے گا
الیکشن لڑوں گا ضروری نہیں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پرالیکشن لڑوں ، سینئر سیاستدان
شاہ محمود قریشی نے سیکرٹریٹ کے حوالے سے ناقابل عمل اعلان کیا ہے اور حالیہ فیصلے نے صوبے کی تحریک کو نقصان پہنچایا، جاوید ہاشمی
اگر عمران خان استعفٰی دے دیں تو ان کی تھوڑی عزت بچ جائے گی، وہ اسمبلیاں توڑے بغیر گھر چلے جائیں، مخدوم جاوید ہاشمی
وزیراعظم نے ترامیم کر کے ثابت کردیا کہ نیب کا قیام سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے کیا گیا تھا، جاوید ہاشمی
شیخ رشید ہمشہ مارشل لاء کا حصہ رہا ہے لیکن ہم نے جیلیں کاٹی ہیں اور ہمیں اس کا دکھ ہوتا ہے، جاوید ہاشمی






