تجارتی خسارے میں کمی درآمدات میں 10 فیصد سے زیادہ تنزلی اور برآمدات میں تھوڑے سے اضافہ کے باعث ہوئی ہے۔
گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران تجارتی خسارہ گیارہ ارب ڈالر تھا جو اب کم ہوکر سات ارب ڈالر تک رہ گیا ہے۔
رواں سال جولائی تا اکتوبر کے دوران تجارتی خسارے میں 35.5 فیصد کمی واقع ہوئی
تین ماہ میں خدمات کا خسارہ ایک ارب بیس کروڑ ڈالر رہا۔ تین ماہ میں آمدن کا خسارہ ارب اڑتالیس کروڑ ڈالر رہا۔
ادارہ شماریات کا کہناہے کہ مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں تجارتی خسارہ 8 ارب 79 کروڑ ڈالر تھا،جولائی تا ستمبر برآمدات ( ایکسپورٹس) 3 فیصد بڑھ کر 5 ارب 52 کروڑ ڈالر رہیں۔
قرضہ پاکستان کی تجارت کے فروغ ،خسارے میں کمی اور معاشی اصلاحات (اکنامک ریفارمز) کے لیے دیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بنک کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مالی سال 2019 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 32 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
گزشتہ سال 23 ارب ڈالر کی برآمدات رہی تھیں جب اس سال حکومت نے 24 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا تھا، رزاق داؤد۔
وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام جلد مکمل ہو جائے گا، آئی…
اسلام آباد: ادارہ شماریات نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دو ماہ میں…
کراچی: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی کا رجحان جاری ہے۔ ایک ہی روز میں ڈالر کی…
اسلام آباد: پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں…









