مالی سال 2019-20میں بین الاقوامی امدادی اداروں کی جانب سے محکمہ بلدیات میں کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جائیگا۔
رضاربانی نے سینیٹ کی 11جون کی کارروائی کو قواعد کیخلاف قرار دیدیا۔
ہماری ایکسپورٹ زیرو ہے۔ تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالرز کا ہے، مشیر خزانہ
قانونی طور پر مشیر بجٹ پیش کرسکتا ہے تاہم اسے چھ ماہ میں رکن پارلیمنٹ منتخب کرانا ہوگا۔
ہم نیوز کو دستیاب بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے اقتصادی ترقی کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیاہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا ترقیاتی بجٹ 925 ارب روپے رکھا گیاہے
29جون کوسال 2018-19کے ضمنی مطالبات زرپر بحث ہو گی اوراُن کی منظور ی دی جائے گی۔
ہائیڈل پاور پراجیکٹس اور نہروں کے نظام کو بہتر بنانے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپےمختص کیے جارہے ہیں
نان فائلرز کیلئے مخصوص رقم سے زیادہ کا کریڈٹ کارڈ بلاک کرنے کی بھی تجویزدی گئی ہے
کفایت شعاری مہم کے ذریعے 40 ارب روپے بچانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے
وفاقی بجٹ کا حجم 6 ہزار 800 ارب روپے سے زائد ہوگا۔ بجٹ خسارہ 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہوسکتا ہے
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی )کے10 ماہ کےکم ترین دوراقتدارمیں چوتھا بجٹ پیش ہونےجارہا ہے
جاری 43 منصوبوں کے لیے 3ارب 23 کروڑ جبکہ 29 نئے منصوبوں کے لئے محض 1 ارب 91کروڑ روپے رکھنے کی سفارش
مجوزہ شیڈول کے مطابق چودہ جون سے بجٹ پر بجث کا آغاز کیا جائیگااوریہ اجلاس تیس جون تک جاری رہیگا











