کنور دلشاد نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنی مرضی کے مطابق پریزائیڈنگ آفیسر پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتی ہیں۔
پروگرام کے میزبان عامر ضیا نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے اس احتجاج سے کئی اہداف حاصل کر لیے اور حکومت کے خلاف پہلا پتھر پھینک کر دکھا دیا۔
عامر ضیا نے کہا کہ اگر کسی بھی مجمعے کی خواہش پر حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو یہ سلسلہ چل پڑے گا۔
’آزادی مارچ سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بہت نقصان پہنچا ہے’
ڈاکٹر ٹیپو سلطان نے کہا کہ پاکستان میڈیکل کمیشن آرڈیننس 2019 ہم پر مسلط کیا جا رہا ہے اور اس کی رہنمائی پڑوسی ملک سے لی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ہم بین الاقوامی معیار کے مطابق سسٹم لے کر آ رہے ہیں جس کے بعد میڈیکل کی تعلیم پر اٹھنے والے تمام سوالات دم توڑ جائیں گے۔
مولانا حامد الحق نے کہا کہ کشمیری اپنے جذبے کے مطابق بھارتی فورسز سے لڑ رہے ہیں لیکن ان کی نظریں پاکستان کی طرف ہیں۔
راجہ عامر عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی سزایافتہ شخص کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی گئی ہے؟
الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان میں جاری سیاسی درجہ حرارت کو کم کر کے کشمیر کے معاملے کو آگے لے کر جایا جائے۔
ماہر معاشیات ڈاکٹر قاضی مسعود احمد نے کہا کہ شبر زیدی کو سب سے زیادہ توجہ کارپوریٹ سیکٹر پر دینی چاہیے اور ان سب کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہیے۔
گھوٹکی میں پیپلزپارٹی ہمارے تعاون سے الیکشن جیتی، رہنما جے یو آئی ف
مرزا اشتیاق بیگ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ فیصلہ کن ثابت ہو گا اس لیے وہ کبھی بھی کلا بازی نہیں کھائیں گے۔
پی آئی اے کی پیپلز یونٹی کے مرکزی صدر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے کی بہتری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے ملازمین کو آج بھی تنخواہیں تاخیر سے مل رہی ہیں۔
سینئر صحافی زاہد حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی میدان میں اچھا کھیل رہے ہیں۔
شرف الدین میمن نے کہا کہ نے کہا کہ کراچی میں سب سے بڑا مسئلہ پانی کا ہے جس پر کسی کی توجہ نہیں ہے۔














