صوبائی حکومت کے فیصلے غیر سنجیدہ ہیں ، اے پی سی صرف دکھاوا ہے ، اپوزیشن رہنما
حقیقی نمائندوں کے بغیرمسئلہ کشمیرپربات چیت بے معنی ہے، حریت کانفرنس
ن لیگ نے حکومتی الیکشن بل پر بلائے جانے والی آل پارٹیز کانفرنس پر مشاورت شروع کر دی ہے۔
مولانا فضل الرحمان ناراض ہو کر اے پی سی سے اٹھ گئے۔
ہم حکومت کو کوڑے دان میں ڈالنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں، شہباز شریف
عمران خان کے پاس زمان پارک گھر کے لیے پیسے کہاں سے آئے، کیا کوئی پوچھے گا؟نوازشریف
حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں شرکت کریں گی تاہم جماعت اسلامی نے اس کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے
مسلم لیگ ن کے اجلاس میں نئے میثاق جمہوریت کے ایجنڈے پر غور کیا جا رہا ہے
مسلم لیگ ن کے 11 رکنی وفد کی قیادت قائد حزب اختلاف شہباز شریف کریں گے۔
پیپلزپارٹی نے اے پی سی کے ایجنڈے کو حتمی شکل دے دی ہے، ترجمان پیپلزپارٹی
اپوزیشن جماعتوں نے اے پی سی میں شرکت کیلئے وفود تشکیل دے دیئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، مولانا فضل الرحمان نے بھی شرکت کیلئے حامی بھری ہے۔
پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے پہلے بھی اپوزیشن کی پیٹھ میں چھرا گھونپا، عثمان کاکڑ
سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ وعدہ تھا کہ مارچ میں حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی، مارچ تو نکل گیا اب ملین مارچ ہی رہ گیا
حکومت کی کشتی ڈوبنے کے قریب ہے، خود مستعفی ہو جائے تو بہتر ہے۔ مولانا فضل الرحمان
خورشید شاہ نے کہا کہ حالات اچھے نہیں ہیں ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیے۔














