عدم استحکام چاہنے والوں کی خواہشات کے برعکس اداروں کا ٹکراؤ نہیں ہوا، عمران خان کی ٹوئٹ
حکومت آرمی چیف کی تقرری، دوبارہ تعیناتی اور توسیع سے متعلق قانون میں چھ ماہ کے اندر ترمیم کرنے کا بیان حلفی جمع کرائے، چیف جسٹس
راجہ عامر عباس نے کہا کہ اگر آرمی چیف کی مدت ملازمت بڑھائی گئی تو پھر فوج کے اندر ہی ایک اضطراب پیدا ہو جائے گا۔
تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ حکومت کی طرف سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے کو درست طریقے سے پیش نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے معاملہ پیچیدہ ہو گیا۔
آرمی چیف کی مدت ملازمت کی تقرری پر اپوزیشن نے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کردیا۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملہ پر بھارت کیوں خوفزدہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اہم مشاورتی اجلاس ہوا۔ جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔
جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کے ایک کامیاب آرمی چیف ہیں ان کی ملک کیلیے بہت خدمات ہیں، اسد عمر
خواجہ نوید ایڈووکیٹ نے کہا کہ فروغ نسیم انتہائی قابل آدمی ہیں ان سے غلطی کی امید نہیں۔ ہو سکتا ہے حکومت نے فروغ نسیم سے مشاورت کے بغیر ہی فیصلہ کر دیا ہو۔
تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا کہ نوٹیفکیشن کو اس طرح سے معطل کرنے کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، ممکن ہے سپریم کورٹ اس معاملے کو آگے بھی چلائے ورنہ عدالت کیس کو نمٹا دیتی۔
بار کونسل کے رہنما عدالت کے سامنے فروغ نسیم کا وکالت کا لائسنس معطل ہونے کا مؤقف پیش کریں گے۔
وفاقی وزیر شفقت محمود نے کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس، قانونی نکات پر بریفنگ
اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی














