ایس ایس باکسر نامی امریکی جنگی بحری جہاز کو اس وقت اپنے دفاع میں کارروائی کرنا پڑی جب ایرانی ڈرون بحری جہاز سے ایک ہزار گز کی دوری پہ آگیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سو فیصد درست ہیں امریکی فوج کا خلیج فارس میں کوئی کام نہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ امریکہ بغیر کسی معاوضے کے دوسرے ممالک کے تجارتی راستوں کی حفاظت کس لیے کر رہا ہے؟
کئی فضائی کمپنیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ پرواز کے لیے بین الاقوامی آبی تجاری گزرگاہ ’آبنائے ہرمز‘ کا راستہ اختیار نہ کریں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ فجیرہ کی بندرگاہ پر پیش آنےوالے واقعہ میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔




