ڈیموکریٹ قانون ساز راشدہ طالب اور الہان عمر مقبوضہ مشریقی یرشلم کا دورہ کرنا چاہتیں ہیں
اسرائیل نے مغربی کنارے رہائشی فلسطینی باشندوں کے لیے بھی گھر تعمیر کرنے کا اعلان کر دیا
اسرائیلی کمپنیاں کابل، فراہ، ہلمند اور نیم روز میں مالی سرمایہ کاری کریں گی۔ فیصلہ افغانستان کی خاتون اول سے ملاقات میں کیا گیا۔
اسرائیلی حکام کی ہدایات پر سیکیورٹی فورسز نے گھروں سے زبردستی لوگوں کو نکال کر ان میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا۔
زخمیوں میں چار طبی رضاکاروں کے علاوہ دو صحافی بھی شامل ہیں۔
موجودہ اسرائیل جس سرزمین پہ واقع ہے اس پر مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق کے دورحکومت میں (636 سن عیسوی) مسلمانوں کی حکومت قائم تھی۔
ایرانی افواج کے خلاف نہیں لڑتے ہیں بلکہ معاشروں سے نبردا آزما ہوتے ہیں
ہمارے پاس ایسے F-35 ایس لڑاکا طیارے موجود ہیں جو ایران اور شام سمیت پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لینے کی سکت رکھتے ہیں۔
سربراہ حکومت کا یہ دورہ اسرائیل میں منعقد ہونے والے عام انتخابات کے انعقاد سے قبل ہو گا جو 17 ستمبر 2019 کو منعقد ہوں گے۔
اسرائیلی پولیس نے وزیر کی رہائش گاہ پر چھاپے کے دوران نہ صرف گھر کی تلاشی لی بلکہ ان کے موبائل فونز بھی تحویل میں لے لیے ہیں۔
علاقے میں آباد تقریباً 20 لاکھ فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے اور وہ سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔
امریکی ڈرون کی جانب سے ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے کے شواہد موجود ہیں۔اطلاع فوجی اینٹیلی جنس سے ملی ہے۔ روسی مؤقف
سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے ماسکو کو دی جانے والی دعوت اور اس کی آمادگی اس بات کی مظہر ہے کہ وہ بھی شام کے حوالے سے گفتگو پر آمادہ ہے۔
سارا نیتن نے ایک سال تک اپنے اوپر لگنے والے الزام کا دفاع جھوٹ بول کر کیا
امریکی سینیٹ نے اپنی تشویش کا اظہار اس اطلاع کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے چینی کمپنی کو حیفا کی بندرگاہ استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔














