افغانستان کی تباہ حال معیشت میں کام کرنے کا تصور نہیں کرسکتے، سربراہ عالمی بینک
رواں ہفتے آئی ایم ایف سےمعاہدہ ہوجائے گا
قیمتوں میں اضافہ کی وجہ پیداوار میں کمی اور طلب میں اضافہ ہے،شوکت ترین
ایمرجنسی فنڈز کے بجائے طویل مدتی قرضے عام حد سے 45 فیصد زیادہ دیئے جائیں گے۔
معاشی طور پر استحکام کی طرف جا رہے تھے کہ کورونا آ گیا، شوکت ترین
آئی ایم ایف نے پاکستان کے ساتھ زیادتی کی، بجلی ٹیرف میں آئی ایم ایف کا مطالبہ ناجائز ہے۔
اوورسیز پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں، عمران خان
2022 کے دوران مہنگائی میں مزید کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کو اس پروگرام کے تحت اب تک 2 ارب 45 کروڑ ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
کورونا وائرس کے اخراجات کا آڈٹ کرانے اور بجلی پر سبسڈی کم کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔اعلامیہ
عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق اگلے سال پاکستان کی معیشت بتدریج سنبھل جائے گی
عالمی مالیاتی ادارے کی وزارت خزانہ سے گریڈ 18 سے 22 تک کے ملازمیں کی تنخواہیں منجمد کرنے کی تجویز
عالمی بینک اور وفاقی وزارت اقتصادی امور کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔
ٹیکس وصولیوں، دفاعی بجٹ، ترقیاتی اخراجات، سود کی ادائیگیوں میں کمی کی پاکستانی درخواست منظور
تین فیصد ممکنہ کمی 09،2008 کی کساد بازاری سے بھی بدتر ہے، عالمی مالیاتی ادارہ














