صوبے بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ مزید چار نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد کیسز کی کل تعداد 192 تک پہنچ گئی ہے۔
حفاظتی لباس ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو مفت فراہم کیا جائے گا، یونیورسٹی انتظامیہ
پاکستان میں کورونا وائرس کیسز کی تعداد 1559 ہوگئی ہے جبکہ مہلک مرض سے اب تک 14 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
وائرس سے پنجاب میں چھ، خیبرپختونخوا میں پانچ، سندھ اور گلگت بلتستان میں دو، دو جبکہ بلوچستان میں ایک شخص جاں بحق ہوا۔
68 افراد کے ٹیسٹ لاہور اور اسلام آباد بجھوائے گئے ہیں جن کی رپورٹس آنا باقی ہیں۔
سندھ کے تمام پیٹرول پمپس مالکان کو پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کی ہدایات جاری کی جاچکی ہیں
معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا نے چینی وفد کا کرونا وائرس کو کنٹرول کے لیے پاکستان کی مدد کرنے پر شکریہ ادا کیا۔
اب تک جاں بحق ہونے والوں دونوں افراد نمونیہ کا بھی شکار تھے، ایک شخص کی عمر 83 اور دوسرے کی 70 سال تھی، وزیر صحت سندھ
شہباز شریف نے مطالبہ کیا کہ حکومت بتائے روزانہ کی بنیادوں پر کتنے پاکستانیوں کی اسکریننگ کی جا رہی ہے ؟
پنجاب میں کورونا وائرس کے سے 5 مریض جاں بحق اور 5 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ دنیا کو کورونا وائرس کے خلاف چین کے اقدامات سے سیکھنا ہو گا۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ لوگ احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔
چند روز قبل برطانیہ سے آنے والے شخص میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
چیف سیکرٹری پنجاب حکومت نے کہا کہ مشتبہ مریض کی نشاندہی پر صرف انتظامیہ اور محکمہ صحت کا عملہ رابطے میں رہے گا۔
تحریک انصاف حکومت نے ہمیشہ عام آدمی اورغریب طبقے کی فلاح وبہبود کو ترجیح دی، وزیراعلیٰ پنجاب













