سابق وزیراعظم نے اپنے چھوٹے بھائی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر کو اہم ذمہ داری سونپ دی۔
چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر حکومتی کوششیں بارآور ہوتی نظر نہیں آرہیں۔
پارلیمانی ماہرین کا کہناہے کہ 65 رکنی بلوچستان اسمبلی میں اکثریت کے لئے 33 ارکان کی حمایت درکار ہے۔
معاون خصوصی برائے اطلاعات نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ ملک میں اب قانون کی حکمرانی ہوگی۔
راجہ ظفرالحق نے کہا کہ بجائے اس کے کہ تحریک عدم اعتماد کی قرارداد پر کارروائی کی جاتی ایوان میں رولز 218 پر بحث کرائی جارہی ہے ۔
وزیراعلی بلوچستان نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہناہے کہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کے 36 میں سے 19 سینٹرز اجلاس میں شریک ہوئے ۔
نیر بخاری نے کہا کہ حکومت گیم ہار چکی ہے حیلے بہانے اور عارضی سہارے حکمرانوں کی مزید خفت کا سبب بن رہے ہیں ۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ کل میری پہلی ریلی ہے لیکن انتظامیہ نے خوف کی وجہ سے اجازت نہیں دی۔
چیئرمین کو ہٹانے کے لئے ایوان کے کل ارکان کی اکثریت اور نئے چیئرمین کے انتخاب کے لئے ووٹنگ میں حصہ لینے والے ارکان کی اکثریت درکار ہوگی۔
چیئرمین سینیٹ کے عہدے کے لیے نامزد امیدوار میر حاصل خان بزنجو نے کہاہے کہ 60 سے زائد ممبرز کے ساتھ وہ اپنی پاور شو کریں گے۔
حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا گیاہے کہ آئین چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی اجازت دیتا ہے۔
اجلاس کی صدارت مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما سینیٹر راجہ ظفر الحق کر رہے جبکہ سینیٹ میں پارلیمانی جماعتوں کے قائدین بھی اس بیٹھک میں شامل ہیں
یہ تجویز قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز کی سینٹر شیری رحمان اور سینٹر رضاربانی سے ملاقات میں دی گئی
سینیٹر شیری رحمان نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنائیں گے۔













