پرویز مشرف آئین شکن تھے تاہم فیصلے میں لاش لٹکانے یا گھسیٹنے کی بات مناسب نہیں ہے، لیگی رہنما
پیرا نمبر 66 فیصلے کا آپریشنل پیرا نہیں ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی
اسلام میں لاش کی بے حرمتی کی اجازت نہیں جبکہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاش کو گھسیٹ کر تین دن لٹکایا جائے، مولانا طاہر اشرفی
‘مشرف کیس کا کریڈٹ آپ کو جاتا ہے کچھ لب کشائی کر دیں‘
ایکس سروس مین کے نائب صدر اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ ان کا کل آخری دن ہے وہ ازخود نوٹس لیں تاریخ انہیں یاد رکھے گی۔
اکرام سہگل نے کہا کہ عوام اور ادارہ پرویز مشرف کے ساتھ کھڑا ہے لگتا ہے فوج کے خلاف سازش کی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ جج اگر ان فٹ قرار پائے تو اس کے فیصلے منسوخ تصور ہوتے ہیں۔
فردوس عاشق اعوان نے پرویز مشرف کی میت ڈی چوک پر لٹکانے سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔
لاہور کنونشن میں وکلاء کا ڈی جی آئی ایس پی آر سے پرویز مشرف کے فیصلے پر بیان واپس لینے کا مطالبہ
پرویز مشرف کو مفرور کرانے میں ملوث افراد کو قانون میں دائرے میں لایا جائے
خصوصی عدالت کے رکن جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے فیصلہ سے اتفاق کیا جب کہ بینچ کے رکن جسٹس نذر اکبر نے فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریر کیا ہے
پارلیمنٹ نے پہلے خاموشی اختیارکرکے پھرآرٹیکل6 میں ترمیم کرکےعدلیہ کودھوکا دیا
آرٹیکل 6 کو اٹھارہویں آئینی ترمیم میں تبدیل کیا گیا۔ آئین میں اٹھارہویں ترمیم 2010 میں کی گئی جب کہ پرویزمشرف نے 2007 میں ایمرجنسی لگائی، درخواست
پیپلز پارٹی رہنما قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ ہمیں اپنے اداروں کا بے حد احترام ہے لیکن ہم کسی غیر آئینی بات کی حمایت نہیں کریں گے۔
سینئر تجزیہ کار نذیر لغاری نے کہا کہ موجودہ احتساب ایک مذاق اور ڈھونگ بن گیا ہے۔ جہاں مخصوص افراد کے خلاف ہی کارروائی کی جا رہی ہے۔














