وزیر اعظم نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا جس کی وجہ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
الطاف حسین وانی نے کہا کہ پاکستان میں جاری سیاسی درجہ حرارت کو کم کر کے کشمیر کے معاملے کو آگے لے کر جایا جائے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے کہا کہ اگر حکومت نے کشمیر کے معاملے پر کوئی اقدام نہیں کیا تو غیرت مند پاکستانی قوم کی حیثیت سے ہم خود فیصلہ کریں گے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی مدت پوری نہیں کر سکیں گے۔
ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ مہنگائی پر نوٹس لینے کے بجائے سلیکٹڈ، نالائق اور نااہل وزیر اعظم استعفیٰ دیں۔
‘عوام کو مسلح جتھے کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔‘
وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے دھرنے کا اعلان نہیں کیا ہوا لیکن اگر وہ دھرنا دیں گے تو ہم اس کا بھی حصہ بنیں گے۔
میر حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کندھا ملا کر چلنا پڑے گا۔
وزیر اعظم نے مہمانوں کو خطے کی صورتحال اور پاکستانی نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
حسن نثار نے کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال انتہائی خراب ہے اس سے زیادہ خراب صورتحال ہو نہیں سکتی۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 12 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا۔
سراج الحق نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو اقوام متحدہ کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے اور یہ غلط فہمی ہے کہ ٹرمپ ثالثی کرے گا۔
رؤف کلاسرا نے کہا کہ پارلیمنٹ میں سارے کاروباری افراد بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔














