اے پی سی شہباز شریف کی کمر درد اور بلاول کے تنظیمی دورے کی نذر ہوگئی، مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان کو اپنی سیکیورٹی اور پولیس کی طرف سے مہیا کردہ اہلکاروں کو ہر وقت الرٹ رکھنے کی ہدایت کر دی گئی۔
ملاقات میں مسئلہ کشمیر کی صورت حال کے علاوہ عوام کے جمہوری حقوق کی جدوجہد کے امور زیربحث آئے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کا معاملہ شدت اختیار کر گیا۔
شہباز شریف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ رہبر کمیٹی نے عوام کی آواز بن کر ان کے مسائل کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
مسلم لیگ نواز دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ہے جس میں سے ایک مریم نواز جبکہ دوسرا شہباز شریف کا ہے، وزیر ریلوے
شیری رحمان کی جانب سے حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں کو عشائیہ دیا گیا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی کہ وزارت ریلوے میں دس ہزار نئی بھرتیاں کررہے ہیں، تمام نوکریاں قرعہ اندازی کے تحت دیں گے۔
فواد چوہدری نے کہا کہ عالمگیر خان کا پانی کے مسئلہ پر احتجاج بالکل درست تھا۔
ہماری جماعت مولانا فضل الرحمان کے حکومت مخالف مارچ میں ان کے ساتھ ہو گی
مولانا فضل الرحمان اصول کے نام پر وصول کی سیاست کرتے ہیں اور ہمیشہ بمع اہل وعیال جمہوریت کے مزے لوٹتے ہیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اب سڑکوں پر فساد اور انتشار پھیلانے کے بجائے تبلیغ برائے اصلاح کا فریضہ سر انجام دیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک میں کوئی احتساب نہیں ہو رہا بلکہ سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے،احتساب کے غلط استعمال پر عدم اعتماد ہو چکا ہے۔
چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے معاملے پرحکومت نے اپوزیشن پر تاخیری حربے استعمال کرنے کا الزام لگا…
قوم نے عمران خان کو مسترد کر دیا ہے، سیلیکٹڈ حکمران اب ریجیکٹڈ بن چکا ہے












