ملکی معاشی حالات بہترہورہے ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی سربراہی میں مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں آئندہ دو ماہ کے لئے شرح سود سات فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا
گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر پریس کانفرنس میں نئی شرح سود کا اعلان کردیا
جون کے دوران ترسیلات زر میں50.7 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا، مرکزی بینک
اسٹیٹ بینک نے گزشتہ دو ماہ کے دوران شرح سود میں سوا 5 فیصد کمی کی ہے
15 مئی کو مرکزی بینک نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، ذرائع
اگلے دو ماہ کے لیے شرح سود 13.25 فیصد سے کم کرکے 12.50 فیصد کردی گئی ہے۔
مانیٹری پالیسی اجلاس میں آئندہ دو ماہ کے لیے شرح سود کا وضع ہو گا۔ اسٹیٹ بینک
وفاقی وزیر نے کہا کہ پالیسی ریٹ سینٹرل بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی بناتی ہے۔ اس سے حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ ایک آزاد ادارہ ہے۔
محمد مالک نے کہا کہ حکومت غلط قوانین پاس کرے گی تو میڈیا ان کے خلاف آواز اٹھائے گی اور ہمیں امید ہے کہ اس موقع پر عدلیہ ہمارے ساتھ کھڑی ہو گی ورنہ اگلی باری عدلیہ کی بھی ہو سکتی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف نے جب حکومت سنبھالی تو شرح سود 6.5 فیصد پر تھا جو بتدریج اضافے سے 13.25 تک پہنچ چکا ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کی%13.25 شرح سود ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔
اسٹیٹ بنک کا شرح سود میں ایک فیصد اضافہ دراصل آپ کی 100 فیصد نالائقی کا ثبوت ہے،مریم اورنگزیب
اس وقت بنیادی شرح سود 12.25 فیصد ہے اور مئی 2018 سے اب تک شرح سود میں 5.75 فیصد کا اضافہ ہوچکا ہے۔
اسلام آباد: گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کریں گے۔ پالیسی…









