امریکی صدر نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے پہلے ہی امریکی اشیا پر بہت زیادہ ’ٹیرف‘ عائد ہے چہ جائیکہ اس میں اب مزید اضافہ کردیا گیا ہے۔
امریکہ، افغانستان سے اپنی افواج نکالنے کو تیار ہے، اس کے متعلق طالبان کو بھی بتا دیا ہے لیکن فی الحال کوئی حتمی تاریخ نہیں دے سکتے ہیں۔
واشنگٹن، ایران کے ساتھ غیر مشروط بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ایرانی بخوبی جانتے ہیں کہ وہ ہم سے کہاں مل سکتے ہیں؟
امریکہ کا مؤقف ہے کہ اس نے طاقت کے استعمال کے امکان کو مسترد نہیں کیا ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو پورے خطے میں تباہی آئے گی۔ روسی صدر
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن سے امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے سوچی میں ملاقات کی ہے جس میں شام، افغانستان، لیبیا اور وینزویلا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات ایک ایسے وقت میں ہونے جارہی ہے جب وینزویلا کے مسئلے پر دونوں ممالک کے مابین نہ صرف اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔
دونوں وزرائے خارجہ نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کیلئے کشیدگی کے خاتمے کو ضروری قرار دیا
اسرائیلی فضائیہ نے فضائی حملوں میں تیزی اس وقت دکھائی ہے جب امریکہ نے نتن یاہو سے ملاقات میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرلیا ہے
عرب میڈیا کے مطابق بغوز کے نواحی پہاڑی سلسلے میں ایس ڈی ایف اور داعش کے بچے کھچے جنگجوؤں کے درمیان ابھی لڑائی جاری ہے۔
ملاقات کا اعلان اس ملاقات کے فوری بعد کیا گیا ہے جو امریکی سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو اور اسرائیلی وزیراعظم کے درمیان ہوئی ہے۔
امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کو درپیش دنیا کے پانچ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔
امریکہ نے ایک مرتبہ پھر شمالی کوریا سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔
امریکہ، روس، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت دیگر کئی ممالک کی پس پردہ اور خاموش سفارتکاری کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائک پومپیو نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین موجود کشیدگی کم کرانے کی تمام ممکنہ کوششیں کررہے ہیں۔
ایشیا والی حکمت عملی کی توجہ ان خطوں پر مرکوز ہے جہاں ہمارے حریف چینی اور روسی مواقع حاصل کررہے ہیں۔














