سہیل شہزاد کو پھانسی کے پھندے پر اس وقت تک لٹکایا جائے جب تک موت واقع نہیں ہوتی، تحریری فیصلہ
پولیس اور حکومت کا شکر گزار ہوں، ملزمان کی ہلاکت بعد میری بیٹی روح کو سکون مل گیا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ میجر لاریب حسن کے قتل میں ملوث ملزمان افغان شہری ہیں
اورنگی ٹاؤن کے علاقے قیوم آباد میں پانچ ڈاکوؤں نے ایک گھر پہ دھاوا بولا اور مزاحمت پر باپ بیٹا کو گولیاں ماردیں۔
مجرمان کو پکڑنے پہ مامور پولیس اہلکاروں نے سارا دن لٹنے والے افراد کی جانب سے درج کرائی جانے والی ایف آئی آرز کاٹنے میں گزارا۔
پانچ سال کے دوران خواتین پر تشدد، زیادتی، قتل اور تیزاب پھینکنے کے 15 ہزار سے زائد واقعات پیش آئے، پولیس رپورٹ
واقعے کی اطلاع ملتے ہی قانون نافذ کرنے والے ادارے کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے اور ثبوت و شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں
زیر حراست لڑکی علینہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ڈکیتی کی غرض سے آئے ملزمان نے میجر لاریب کے سر پر گولی ماردی
شہر میں 15دنوں میں قتل کی گیارہ وارداتوں نے پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا
مقتول نے کچھ روز قبل فیس بک پر ایک پوسٹ لگائی تھی جو اس کے چچازاد بھائی کو ناگوار گزری
بھائی کا اتنقال 12 سال قبل کرنٹ لگنے سے ہوا تھا لیکن ملزمان اس کا ذمہ دار بھابھی کو سمجھتے تھے تو اس کے دوسرے خاوند سے دو بچوں کو قتل کردیا۔
ملزمان پر مجموعی طور پر چار لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے 2013 میں ماڑی پور کے علاقے میں شوہر، بیوی اور ان کے دو بیٹوں کو قتل کیا تھا
قتل کیس میں نامزد مسلم لیگ (ق) کے رکن اسمبلی عبید الرحمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ شوکت یوسف زئی
حکومت پنجاب نے پیش کردہ تین میں سے دو مطالبات تسلیم کرلیے ہیں لیکن ایک مطالبہ ماننے سے معذرت کرلی ہے۔














