گزشتہ روزکےعدالتی فیصلے کےبعد پی ٹی آئی کی مشکلات بڑھ گئی ہیں،سینیٹر
سیاسی جماعتوں پر پابندی کا حامی نہیں ہوں لیکن جو پاکستان مخالفت میں ہوں ان پر پابندی لگنی چاہیے، سینیٹر
پرسوں کے بیانیہ کے بعد صورتحال خطرناک ہو گئی ہے،مجھے لگ رہا ہے پارٹی پابندی کی طرف نہ چلی جائے
اگر میں غلطی پر ہوا سب کے سامنے کسی سے بھی معافی مانگ لوں گا اور اگر میں غلط نہ ہوا تو گردن کٹا دوں گا لیکن معافی نہیں مانگو ں گا، سینیٹر
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کیس کی سماعت آج کرے گا۔
پی ٹی آئی کی حکمت عملی ہے کہ سابق چیئرمین پی ٹی آئی جیل میں رہیں،سینیٹر
مجھے درست بات کرنے پر پارٹی سے نکالا گیا،نومنتخب سینیٹر
فیصل واوڈا کو 6 ووٹ دینے پر پی پی 7 جنرل نشستوں میں سے 5 پر کامیابی حاصل کرسکے گی
فیصل واوڈا کو سپورٹ کرنے کا پارٹی فیصلہ ٹھیک ہے، رہنما متحدہ قومی موومنٹ پاکستان
جو بڑی جماعتوں کے لوگ غریبوں کی بات کرتے ہیں وہ ہمارے پاس آجائیں
اس حکومت کا ٹیسٹ کیس پہلے رمضان سے 15رمضان کے دوران ہوگا،، سابق وفاقی وزیر
میاں صاحب کی عبرتناک سیاسی حالت کے بعد اللہ کا ڈر نہیں
قوم نے آپ کو بتادیا کہ آپ کدھر کھڑے ہیں اور آپ کی اوقات کیا ہے
علی امین گنڈا پور کو نامزد کر کے اشارہ دیدیا کہ توڑ پھوڑ کی سیاست کریں گے، سابق وفاقی وزیر
حافظ حمداللہ پی ٹی آئی کی زبان بول رہے ہیں یہ قیامت کی نشانی ہے











