ملزم احمد سے ابتدائی تفتیش کی جا رہی ہے۔
مرنے والوں میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔
حملہ آور نے ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کے لیے بھی پولیس کی گاڑی جیسی گاڑی کا ہی استعمال کیا۔
بھارتی اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، کشیدگی بڑھا کر بھارت مقبوضہ کشمیر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی توجہ نہیں ہٹا سکتا، دفترخارجہ
ڈاکوؤں کی فائرنگ سے قتل ہونے والوں میں باپ، بھائی اور دو بیٹے شامل ہیں۔
تھانہ کہوٹہ پولیس نے نعشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔
فائرنگ کرنے والوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، پولیس
آپریشن کے دوران فورسز کے گھیراؤ کرنے پر دہشت گردوں نے فائرنگ کر دی۔
مقتولین کی شناخت اسحاق، ابو ذر، عاطقہ اور حسنہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
جب فائرنگ کی جارہی تھی تو اس وقت ڈولفن پولیس کے اہلکار قریب ہی کرسیوں پہ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے لیکن انہوں نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔
نامزد ملزمان میں وقار کھوکھر، اختر، صدیق کھوکھر اور مسماۃ سلمیٰ شامل ہیں۔
بھارتی افواج نے نیزا پیر اور رکھ چکری سیکٹرز میں شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ کی ہے۔
لواحقین کے احتجاج کے سبب راولپنڈی، پشاور اور ایبٹ آباد جانے والی شاہراہوں پہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے۔
بھارتی فوج نے چڑی کوٹ سیکٹر میں شہری آبادی کو توپ خانے اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا، آئی ایس پی آر










