’عمران خان نے نے غلطی سے مجاہدین کو القاعدہ کہا تھا‘
طالبان نے اسپتال کے قریب ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اب ان کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ مذاکرات کیسے بحال کیے جائیں؟ امریکی صدر کا دعویٰ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کے فیصلے کے بعد پہلی مرتبہ کمیٹی کی جانب سے کسی اہم شخصیت کو طلب کیا گیا ہے۔ زلمے خلیل زاد 19 ستمبر کو قانون سازوں کے سامنے پیش ہو کر بریفنگ دیں گے۔
طالبان کے وفد اور ضمیر کابلوف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں گفتگو کا محور ’افغان امن عمل میں ہونے والی پیشرفت‘ تھی۔
سفارت خانے کےکمپاونڈ پر جب راکٹ گرا اس وقت 18 برس قبل ہونے والے حملے کی یاد میں تقریب جاری تھی
ستمبر2010 میں امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔
ہمارے پاس جہاد اور مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں، ترجمان طالبان
مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع ہے۔ تنازع کے حل میں دونوں ممالک کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ ڈونلڈ ٹرمپ
افغان امن عمل کے تابوت میں آخری کیل ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعلان کے ساتھ ٹھوک دیا کہ امریکہ اب طالبان پر بھرپور شدت سے حملے کر رہا ہے۔
فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ جلد ازجلد مذاکرات کی میز پر آکر افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں، ڈاکٹرفیصل
مذاکرات معطلی سے مزید امریکی ہلاک ہوں گے، ذبیح اللہ مجاہد
امریکی صدر کی آج کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں ہونا تھیں جو منسوخ کردی گئی ہیں۔
افغان امن معاہدے کے نکات طالبان کے ساتھ گفتگو کے نو ادوار کے بعد طے پائے تھے۔
دورہ پاکستان کو عارضی طور پر افغانستان میں ہونے والے حملوں کی وجہ سے مؤخر کیا گیا ہے۔














