پولنگ کا عمل سست روی کا شکار ہی نہیں ہوا بلکہ کچھ دیر رکا بھی رہا، رہنما مسلم لیگ ن
وزیردفاع پرویز خٹک کے بھائی سے نہ کبھی ملاقات ہوئی اور نہ ہی فون پر بات ہوئی، اختیار ولی
پی پی کے امیدوار یوسف مرتضیٰ بلوچ نے 24 ہزار 251 ووٹ لے کر کامیابی اپنے نام کی ہے۔
ضمنی انتخابات کی طرح سینیٹ الیکشن میں بھی شکست سلیکٹڈ وزیراعظم کی منتظر ہے، چیئرمین پی پی
جام شبیر علی خان نے 48 ہزار 28 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کر لی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے مشتاق جونیجو دوسرے نمبر پر رہے ہیں۔
ووٹنگ کا عمل شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔
پیپلز پارٹی کے امیدوار امیر علی شاہ 55904 ووٹ لے کر کامیاب ہو گئے ہیں۔
پارٹی سفارشات کی بنیاد پر امیدوار کی نامزدگی کا فیصلہ عمران خان کریں گے۔
مسلم لیگ ن کے امیدوار صہیب سعید اور سابق وزیر اعظم بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے درمیان کانٹ کا مقابلہ متوقع ہے۔
ضمنی انتخاب میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سید صالح شاہ جیلانی اور پاکستان تحریک انصاف کے امداد حسین لغاری مد مقابل ہیں۔
’ایم پی اے کوئی اور انتظام کسی اور کےہاتھ میں تھا‘
لاڑکانہ میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس 11سے پیپلزپارٹی کے امیدوار جمیل سومرو نے الزام عائد کیا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے انتخابی عمل میں رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں۔
پیپلزپارٹی کے جمیل سومرو اور جی ڈی اے کے معظم علی عباسی کے درمیان مقابلہ ہے۔
پی ایس -11 پر ہونے والے ضمنی انتخاب کے متعلق مولانا راشد محمود سومرو سے رابطہ ہوا تھا اور مقامی قیادت سے بھی رابطہ کیا گیا تھا۔ پی پی کے صوبائی صدر کا دعویٰ
چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سمیت کسی بھی رکن قومی و صوبائی اسیمبلی نے تاحال بھیجے گئے نوٹسز کا جواب نہیں دیا ہے۔














