صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ سے 4 سوالوں کے جواب مانگے گئے ہیں
سپریم کورٹ نے قابل شناخت سینیٹ پیپرکا کہہ دیا، اب یہ الیکشن کمیشن پرہے کہ وہ بار کوڈلگائے یا سیریل نمبر
پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی کی اوپن بیلٹ کی مخالفت
ہر جماعت شفاف الیکشن چاہتی ہے لیکن بسم اللہ کوئی نہیں کرتا، چیف جسٹس
سینیٹ انتخانات آئین کے مطابق ہونے چاہیئیں، پیپلز پارٹی
سیاسی جماعتوں اور بار کونسلزکا اوپن بیلٹ کی مخالفت کرنا تشویشناک ہے، اٹارنی جنرل
پاکستان بار کونسل چاہتی ہے کہ سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری کے تحت ہوں
آئینی ترمیم پیش ہو یا نہ ہو عدالت کو تشریح کا اختیار حاصل ہے، جسٹس اعجازالاحسن
انٹرا پارٹی یا سیاسی پارٹیوں کے معاملات ہوں تو عدالت ان میں نہیں پڑتی، سپریم کورٹ
خفیہ ووٹنگ میں پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ دینا بے ایمانی ہو گی, جسٹس اعجازالاحسن
صدارتی ریفرنس ناقابل سماعت اور پارلیمنٹ کو بے توقیر کرنے کے مترادف ہے، جے یو آئی
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ دن ایک بجے کیس کی سماعت کرے گا
الیکشن ایکٹ کی دفعہ 122 آئین پاکستان کے آرٹیکل 22 اور 226 کے متصادم ہے
جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر میں پیش ہو کر بیرون ملک جائیداد سے متعلق تفصیلات پیش کر دیں
عمران خان کی ناراضگی سے متعلق تمام خبریں غلط ہیں، فروغ نسیم










