نیب نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے خلاف ایک ارب 23 کروڑ روپے سے زائد کا ریفرنس دائر کیا تھا۔
سات ماہ کے دوران سات لاکھ سے زائد گندم کی بوریاں وصول کی گئیں جن میں سے دس ہزار بوریوں کا غبن ہوا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ پھر تو نیب کی تفتیش مکمل ہو چکی ہے، پھر گرفتار کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟
ریفرنس میں تینوں افراد کو ملزم نامزد کیا گیا اور ان پر توشہ خانے سے گاڑیاں حاصل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے
نیب ریفرنس میں ملزمان پر منی لانڈرنگ سمیت دیگر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
شریف خاندان کے ذاتی ملازم فضل داد عباسی، منی ایکسچینجر قاسم قیوم ، نثار احمد اور راشد کرامت سمیت وعدہ معاف گواہ بننے والے چار ملزمان کو بھی ریفرنس کا حصہ بنایا گیا ہے۔
چیئرمین نیب نے ایگزیکٹو بورڈ اجلاس میں زلفی بخاری کے خلاف انکوائری بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے
ڈسٹرکٹ بار کے مرحوم رکن پر لیہ میں 254 کنال پر نان رجسٹرڈ ویو ہاؤسنگ کالونی بنانے کا الزام تھا۔
قومی احتساب بیورو نے 46,123 کرپشن شکایات کو قانون کے مطابق نمٹایا، اعلامیہ
پی ٹی آئی رہنما فردوس شمیم نقوی نے کہا ہے کہ نیب کے پاس اگر ثبوت نہیں ہیں تو وہ لوگوں کی عزت سے نہ کھیلیں۔
ایکس سروس مین کے نائب صدر اور دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ر) اعجاز اعوان نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ ان کا کل آخری دن ہے وہ ازخود نوٹس لیں تاریخ انہیں یاد رکھے گی۔
ریفرنس میں خورشید شاہ کی دو بیگمات اور دونوں صاحبزادوں سمیت 18 افراد کو نامزد کیا گیا ہے
ریفرنس میں اختیارات کے غلط استعمال اور ایک کمپنی کو 21ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا گیا
ماہر قانون بیرسٹر افتخار احمد نے کہا کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے علاوہ کوئی ادارہ کسی پارٹی کو کالعدم قرار نہیں دے سکتا۔
ملزمان پر سمٹ بینک کے اکاؤنٹس سے 2150 ملین روپے کی رقم غیرقانونی طورپرمنتقل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے












