استاد امانت علی خان نے اپنے باقاعدہ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا تھا۔
محمد علی جناح کو 1937 میں مولانا مظہرالدین نے ’قائداعظم‘ کا لقب دیا
اردو ادب میں اشفاق احمد جیسی کہانی لکھنے کا فن کسی دوسرے کو حاصل نہیں ہوا۔
احمد فراز کو حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز، اور ہلال پاکستان جیسے اعزازات سے نوازا گیا
پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے بھانپ لیا کہ ان کا انسٹرکٹرپاکستان سے غداری کا مرتکب ہو چکا اورجہاز زبردستی بھارت لے جانا چاہتا ہے
ادب کے اس روشن چمکتے ستارے کو پاکستانی حکومت نے ستارہ قائداعظم اور ستارہ پاکستان سے بھی نوازا۔
البیلا پنجاب کے روایتی مزاحیہ تھیٹر کے بانیوں میں سے تھے۔ انہوں نے اپنے ہونہار جونیئر امان اللہ کے ساتھ مل کر تھیٹر کو اتنا مقبول کردیا کہ یہ باقاعدہ ایک انڈسٹری بن گیا
ان کے یادگار ڈراموں اور اسٹیج شوز میں روزی، سچ مچ، اسٹوڈیو پونے تین، بندر روڈ سے کیماڑی، شو ٹائم شامل ہیں۔
ڈاکٹر جمیل جالبی نے بابائے اردو مولوی عبدالحق کی تجویز پر ہی اُردو ادب کی تاریخ پر کام شروع کیا جو نو سال کی انتھک محنت کے بعد پایا تکمیل کو پہنچا۔
ببوبرال نے الحمرا کے اسٹیج پر قدم رکھا تو ان پرکامیابیوں کے دروازے کھل گئے۔
شہرہ آفاق نظم یا اللہ یا رسول بے نظیر بے قصور بھی انہی کے قلم کی تخلیق ہے۔
سلطان راہی فارمولا پر آج بھی فلمیں بنتی ہیں، اور لاگت پوری کر لیتی ہیں
ہم عوام کی مدد سے 2020 میں عوامی راج قائم کر کے رہیں گے، چیئرمین پیپلزپارٹی
اجلاس میں بلاول بھٹو کی تقریر اور مستقبل کی حکمت عملی بھی زیر غور آئی
راولپنڈی: پاکستان پیپلزپارٹی کے لیاقت باغ میں جلسے کیلئے مختص کی گئی جگہ کے قریب سے دو مشتبہ افراد کو…














