وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے نقطہ نظرکو پارلیمنٹ میں سنیں گے، کورونا وبا کے باوجود ملکی معاشی حالات بہتر ہو رہے ہیں
بجٹ آ گیا مگر غریب کے گھر کا چولہا آج تک بجھا ہوا ہے، چیئرمین پیپلز پارٹی
دیامر بھاشا اور داسو ڈیم منصوبے کےلیے 84.5 ارب، پنجاب میں گھبر اور پاپن ڈیم کی مد میں پونے چار ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
آئندہ مالی میں وفاقی وزارت تعلیم کے لیے 19 ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ہے
حکومت بجٹ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، چیئرمین پی پی کا احتجاج کرنے والے سرکاری ملازمین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ذرائع ابلاغ سے بات چیت
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بعض چیزیں سستی اور بعض مہنگی کرنے کا اعلان کردیا
کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے ایک ارب ڈالر خرچ ہوں گے
خصوصی اقتصادی زونز میں دھابیجی، رشکئی، فیصل آباد اور بوستان زونز کے قیام کے لیے بھی 7 بلین روپے کے فنڈز مختص ہوئے ہیں۔
زراعت کے شعبے کی 5 فیصد گروتھ کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت نے کم سے کم اجرت 20 ہزار ارب روپے مقرر کردی، تنخواہ دار طبقے پر نیا ٹیکس نہ لگانے کا بھی اعلان
انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ ایس ایم ایس پیغامات پر بھی ایف ای ڈی عائد کردیا گیا ہے۔
حکومت نے پہلے سے بننے والی گاڑیوں اور نئے ماڈل پر ایڈوانس کسٹم ڈیوٹی سے بھی استثنیٰ دے دیا ہے۔
وفاقی وزارت صحت کے جاری 23 منصوبے پی ایس ڈی پی میں دوبارہ بھی شامل کیے گئے ہیں۔
اپوزیشن میں بجٹ کے حوالے سے کوئی تقسیم نہیں، ن لیگی رہنما
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سود کی ادائیگیوں کیلئے 3 ہزار 60 ارب، تنخواہوں اور پنشن کیلئے 160 ارب، این ایف سی کے تحت ایک ہزار186 ارب، صحت کیلئے 30 ارب اور ہائیرایجوکیشن کیلئے 44 ارب مختص کیے ہیں














