7 سال بعد پشاوری قہوے کی چھوٹی چینک 15سے 20 اور بڑی چینک 25 سے 30 روپے کی ہوگئی ہے۔
حزب اختلاف کی جانب سے جمع کرائی گئی تمام ترامیم مسترد کردی گئیں
بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں غیرترقیاتی اخراجات کا حجم دو کھرب بہتر ارب روپے سے زائد جبکہ ترقیاتی اخراجات کا حجم ایک کھرب چھبیس ارب روپے سے زائد ہے ۔
ایوان میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق غیر ملکی قرضوں کا حجم1095 ارب روپے تک پہنچ گیا جبکہ غیر ملکی قرضوں پر سود 359 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے۔
434 کھرب 77 ارب روپے سے زائد کے لازمی اخراجات منظوری کے لئے ایوان میں پیش کیے جائیں گے۔
اطلاع ہے کہ شریف خاندان کے بچوں میں سے کسی نے عرب ملک کے سربراہ سے رابطہ کیا، عمران خان
ایوان بالا نے سفارش کی ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا ( ایچ ای سی) کا بجٹ 70 ارب روپے کیا جائے۔
حنا ربانی کھر نے کہا کہ آپ کہہ رہے تھے مختصر کابینہ رکھیں گے،55 رکنی کابینہ بنا دی گئی۔
حکومت کے لئے بجٹ کی منظوری کو بڑا چیلنج قرار دیا جارہا ہے۔دیکھا جائے تو حساب کتاب آسان ہی ہے۔
رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کے بجٹ میں 6ہزار نئی اسامیاں پیدا کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔
بجٹ میں جاریہ اخراجات کیلئے97ارب جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے24ارب 56کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ نے مالی سال 2019-2020کی بجٹ تجاویز کی منظوری دیدی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخوا کےسالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے 200 ارب روپے مختص کرنے کی تجویزسامنے آئی ہے۔
ترقیاتی بجٹ کا حجم 346 ارب روپے ہو گا اور غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 1310 ارب روپے تجویز کیا جا رہا ہے۔
ہماری ایکسپورٹ زیرو ہے۔ تجارتی خسارہ 40 ارب ڈالرز کا ہے، مشیر خزانہ













