اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس( اے پی سی) کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔ ذرائع نے ہم…
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہم اسلام آباد متحدہ طور پر آئیں گے،ہم نے یہ فیصلہ کرلیا ہے۔
اے پی سی شہباز شریف کی کمر درد اور بلاول کے تنظیمی دورے کی نذر ہوگئی، مولانا فضل الرحمان
اجلاس میں حکومت کے خلاف مشترکہ احتجاجی حکمت عملی اور سینٹ انتخابات کے بعد سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور ہوگا
جماعت 25 جولائی کے حزب اختلاف کے یوم سیاہ میں بھی شرکت نہیں کرے گی، ذرائع۔
رہبر کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی، سیاسی جلسوں اور ملکی معاشی صورتحال پر غور کیا۔
اے پی سی میں شریک 9 جماعتوں نے اپنے اپنے نمائندے کمیٹی کے لئے نامزد کردیئے ہیں۔
26جون کو اسلام آباد میں منعقد کی گئی کانفرنس میں اپوزیشن کی آئندہ کی مشترکہ حکمت عملی کے تعین کیلئے رہبر کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا گیا تھا ۔
وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ فتوے باز مولوی ہیں۔ انہوں نے پاکستانیوں کے 75 فیصد مسائل کی وجہ بھی علمائے سو کو قرار دیا۔
تمام جماعتوں نے اٹھارویں ترمیم کے خلاف کسی بھی اقدام کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
حزب اختلاف بجٹ کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کرے گی جبکہ عوامی رابطہ مہم شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
حکومت گرانے سے متعلق مشاورت اور چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر غور بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
جہانگیر ترین نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے صدر سردار اختر جان مینگل کو بجٹ منظوری کی حمایت کے لیے راضی کرلیا ہے۔
جے یو آئی ف کے ترجمان نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایاہے کہ آل پارٹیز کانفرنس 26 جون کو اسلام آباد کے ایک نجی ہوٹل میں ہوگی۔
مولانا فضل الرحمان حکومت مخالف تحریک کے لیے افرادی قوت کی ذمہ داری لینے کو بھی تیار ہیں۔













