پاکستان اپنے آئی ایم ایف پروگرام کو بحال کرنے کی آخری کوشش کر رہا ہے
ورکنگ جنرلسٹ کے لیے ہیلتھ انشورنس کارڈ اور فنکاروں کیلئے آرٹسٹ ہیلتھ انشورنس کارڈ کا اجرا بھی کیا جائے گا، اسحاق ڈار کی بجٹ تقریر
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں سبسڈی کی مد میں تقریباً 1300 ارب رکھنے کی تجویز دی ہے۔
پلان بی اور سی سوچنا نہیں، آئی ایم ایف پروگرام میں ہی جانا ہو گا، سابق وفاقی وزیر خزانہ کا انتباہ
خواجہ آصف کے ٹوئٹ پر میں نے ان کو پرائیویٹ میں جواب دیا ہے، سابق وفاقی وزیر خزانہ کی نجی ٹی وی سے گفتگو
سوئچ آن آف کر کے معیشت کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایم ایف کے کہنے پر پیشگی اقدامات کیے گئے لیکن اب مزید نہیں کر سکتے، اسحاق ڈار
پروگرام کے تحت 2 اعشاریہ 6 ارب ڈالر کا قرض اب بھی باقی ہے۔
میرا نہیں خیال کہ سپریم کورٹ نااہلی کی حد تک جائے گی، رہنما مسلم لیگ ن محمد زبیر
آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر نویں ریویو کو مکمل کرنے پر کام جاری رکھا ہوا ہے، مشن چیف ناتھن پورٹر
رواں برس مہنگائی کی اوسط شرح 27 فیصد رہے گی، موجودہ مالی سال پاکستان کی معاشی شرح نمو اعشاریہ 5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف نے جن اصلاحات پر اتفاق کیا وہ آسان نہیں ہیں۔
مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ بڑھنے سے موجودہ حکومت مقبولیت کھو چکی ہے، اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ کی رپورٹ
حکومت نےصارفین سے 75 روپے فی لیٹر تک اضافی وصول کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
ملک کو ڈیفالٹ اور سری لنکا بنتا دیکھنے والوں کو شرمندگی ہوئی۔













