عالمی مالیاتی ادارے کا کہناہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے جائزہ اجلاس میں معاشی کارکردگی سے مطمئن ہیں، پاکستان کی معاشی کارکردگی سے بورڈ کو آگاہ کیا جائے گا۔
مالیاتی خسارے میں پہلی سہ ماہی میں 50 فیصد کمی ہوئی ہے۔ مالیاتی خسارہ 1.5 فیصد سے کم ہوکر 0.7 فیصد پر آگیاہے۔
پہلے دن سے ہمارا نقطہ نظر ہے کہ آئین کی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج مولانا کا حق ہے، اسد عمر
حزب اختلاف کی رہبر کمیٹی اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کی اندرونی کہانی بھی سامنے آ گئی۔
ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا ہے کہ ہم آئی ایم ایف کے معاہدے کے مطابق چل رہے ہیں جس کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے والے چار سو محکمے بند کرنے کا اعلان کرکے بے روزگاروں کی تعداد ایک کروڑ تک لے جایینگے ۔
مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے حکومت نے اہم اقدامات اٹھائے، آئی ایم ایف رپورٹ
پاکستان اور آئی ایم ایف کی تکنیکی ٹیم کے درمیان مذاکرات 2 ہفتے تک جاری رہیں گے۔
رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ کے دوران گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 77 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول کیا گیا
وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی مد میں ڈیزل پر صارفین سے 40 روپے فی لیٹر وصول کررہی ہے، رپورٹ
اسٹیٹ بینک کے مطابق ایک ہفتہ کے دوران سرکاری ذخائر میں 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔
ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ملک میں جلد معاشی استحکام لایا جائے،آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات خوش اسلوبی سے انجام پائیں۔
ایم ایف کے وفد کی شرکت کی وجہ سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس کو ان کیمرا کردیا گیا تھا۔
آئی ایم ایف سے پاکستان کو قسطوں میں قرضہ ملے گا اور اس سے قرضوں کے مجموعی بوجھ میں خاطرخواہ کمی نہیں ہو گی ۔
وفد کی وزیر اعظم عمران خان، مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کے علاوہ دیگر وفاقی و صوبائی حکام سے بھی ملاقاتیں متوقع ہیں۔












