سیاسی کھیل میں امداد ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہی ہے۔
روس، ترکی اور ایران نے شام میں علیحدگی پسند ایجنڈے کے خلاف مل کرکام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکہ ، کراکس اور انقرہ کے درمیان جاری تجارتی تعلقات پہ نگاہ رکھے ہوئے ہے۔
قدیم ترین سعودی اخبار ’المدینہ‘ نے گزشتہ روز لکھا ہے کہ ولی عہد کے دورہ اسلام آباد کی خوشی میں مرکزی شاہراہوں پر خیر مقدمی بینرز اور بورڈ آویزاں کیے گئے ہیں۔
ہم ہر روز ایران کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں جیسی کہ گذشتہ روز کی کارروائی تھی۔
صدی کی ڈیل سے تنازع کے حل کے لیے جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے، وہ بھی ضائع ہوجائے گا۔
ایشیا والی حکمت عملی کی توجہ ان خطوں پر مرکوز ہے جہاں ہمارے حریف چینی اور روسی مواقع حاصل کررہے ہیں۔
مظاہرین کا ایک گروپ آنے والی امریکی امداد کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے کا خواہش مند ہے تو دوسرا گروپ اسے قومی وقار کے منافی سمجھتا ہے۔
اگر زیادہ بدعنوانی ہوگی تو اعتماد کا فقدان ہوگا ،کم آمدن پیدا ہوگی اور نوجوان اپنے ممالک کے اداروں پر کم اعتماد کریں گے۔
محکمہ صحت کےمطابق 2016 سے اب تک ایکس ڈی آر ٹائیفائیڈ آٹھ ہزار کیس رپورٹ ہوئے۔
شدت پسند تنظیم اب چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم اور غیرمنظم جنگجو تنظیم میں تبدیل ہوچکی ہے۔
فوج سے رابطے کا مقصد اسے نکولس مادورو کی حمایت سے دستبردار کرانا ہے
بیجنگ حکومت یقین رکھتی ہے کہ وینزویلا کے بحران کا حل وہاں کے دستور کی حدود میں رہتے ہوئے عوام کے ہاتھ میں ہے۔
طالبان کو بالآخر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے۔
میری ٹائم ایکسرسائز میں برطانیہ، امریکہ، ترکی، چین، اٹلی سمیت دیگر ممالک نے بھی شرکت کی۔














