اسلام آباد: ماہر معاشیات فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کا روپے کی قدر میں کمی سے کوئی تعلق نہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام بڑی بات میں ان کا کہنا تھا دنیا بھر میں ڈالر کی قدر میں اضافہ ہونے سے ان کے پیسے کی قدر کم ہوئی، تو یہ کہنا کہ روپے کی قدر میں کمی حکومت کی غلطی ہے درست نہیں۔
فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ ڈالر کی انٹر بینک میں واقعی قلت ہے اور اسی کے باعث ڈالر کی کمی سے اس کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں روپے کی قدر کم ہی ہو گی۔
ماہر معاشیات عائشہ غوث اس بات سے متفق نہیں تھیں۔
ملکی معیشت کے حوالے سے فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ پچھلے 19 مہیوں میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر استعمال کیے جارہے ہیں۔ اس دورانیے میں گزشتہ حکومت ہی ذخائر استعمال کر رہی تھی۔
ماہر معشیات عائشہ غوث کا کہنا تھا مارکیٹ کو حکومت کی باتوں پر بھروسہ نہیں ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاری اور معیشت متاثر ہو گی۔
پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے گاڑیوں کی پیداوار کے حوالے سے نئے منصوبے کے متعلق چینی تاجر ایلکس ذو کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 50 ملین کی سرمایہ کر دی گئی اور کل 90 ملین کی سرمایہ کاری ہو گی، اس منصوبے کے تحت چین سے ٹیکنالوجی پاکستان لائی جائے گی۔
ایلکس زو کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئی حکومت اس منصوبے کے حوالے سے پالیسی پر کام کر رہی ہے، اس حکومت کی زیر صدارت ایسے کاموں کو بہت آگے لے کر جا سکتے ہیں۔
اسی حوالے سے عابد سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کارخانے موجود ہیں صرف ٹیکنالوجی کی کمی ہے، اس منصوبے سے پاکستان گاڑیاں درآمد کر سکے گا۔
عابد سعید کا کہنا تھا کہ حکومت کی طرف سے اچھی پالیسی آئی، اس سے 12 کمپنیاں پاکستان آرہی ہیں اور ایسے میں نوکریاں بڑھیں گی۔
پاکستان میں معاشی مسائل کے حل کے لیے ایلکس زو کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر میں کمی سے چین کے ساتھ تجارت متاثر ہوتی ہے، اس کے حل کے لیے یوان میں تجارت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جب پشاور کے ریپڈ ٹرانزٹ ترانسپورٹ کی بات کی گئی تو طارق وحید نے بی آڑ ٹی کی تاخیر کا ذمہ دار وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو ٹہرایا۔
انہوں نے بتایا کہ ہر کسی کا یہی کہنا ہے کہ وعدوں کے باوجود وزیراعلیٰ ایسا نہیں کر سکے۔
