لاہور: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کفر کا معاشرہ تو رہ سکتا ہے لیکن ناانصافی پرمبنی معاشرہ قائم نہیں رہ سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا آج ہم اپنی ذمہ داری پوری کررہے ہیں۔
لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مقدمات کا فیصلہ وقت پر ہونا چاہیے کیونکہ یہ عدالت کی ذمہ داری ہے۔ جس کا حق مارا جاتا ہے وہ انصاف کا منتظر رہتا ہے۔ ججز جتنی تنخواہیں لے رہے ہیں اتنا کام بھی کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے قوانین اور سسٹم میں ترامیم کی ضرورت ہے کیونکہ وہ دور گیا جب لوگ انصاف ملنے کے منتظر رہتے تھے اور صبر سے کام لیتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک جیسی نعمت ہر کسی کو نہیں ملتی جن کے پاس یہ نعمت نہیں ان سے پوچھیں کہ ان پر کیا بیتتی ہے، اور پھر ہمارا ملک تو بڑی قربانیوں کے بعد حاصل کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ آج ہم جو کچھ بھی ہیں صرف پاکستان کی وجہ سے ہیں لیکن ہمارے ملک کا ڈھانچہ درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ بار اور عدالت کی عزت لازم ہے، اس کے بغیر کوئی معاشرہ نہیں چل سکتا اور اسی طرح استاد کی عزت بھی لازم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی ترقی کے لیے ہمیں پوری ذمہ داری سے کام کرنا ہوگا۔ کسی بھی کیس کا فیصلہ کرنا ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جسے ہر جج کو پوری ایمانداری سے پورا کرنا چاہیے۔
