اسلام آباد: پاکستان کو برداشت، معاملہ فہمی اورایمانداری سے امریکہ اور افغانستان کے ساتھ اپنے قومی مفادات پر سمجھوتا کیے بغیرمعاملات کو حل کرنا ہو گا۔
یہ تجاویزاسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ (اپری) کی اسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ پاک امریکہ تعلقات کانفرنس کے اعلامیے میں پیش کی گئیں۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان اورامریکہ کو درمیانی راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصی طور افغانستان کے حوالے سے مشترکہ مفادات کے لیے کوششیں کرنی چاہیے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں استحکام اور قیام امن پاکستان اور امریکہ دونوں کے مفاد میں ہے۔
اعلامیے کے آخر میں کہا گہا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی بالکل واضح ہونی چاہیئے اور اس میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیئے۔
کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نسٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر طغرل یمین کا کہنا تھا کہ جب سے ٹرمپ حکومت نے افغانستان کے معاملے میں سخت رویہ اختیار کیا ہے پاک امریکہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
ڈاکٹر یمین کا کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں مستحکم حکومت کا قیام اور با عزت انخلا چاہتا ہے ۔ پاکستان بھی وہاں پر مستحکم اور دوستانہ حکومت کا خواہشمند ہے۔
قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر فرحان حنیف کا کہنا تھا کہ پاکستان اورامریکہ کے تعلقات انتہائی پیچیدہ اور دلچسپ ہیں۔
انہوں نے کہا جہاں ایک جانب پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو بہتر کرنے کی بات کی جاتی ہے، وہیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ دفتر خارجہ نے بہت کامیابی کے ساتھ بیک وقت امریکہ اور چین دونوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے اور یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بڑی کامیابی ہے۔
