لاہور: وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ عثمان بزدار ’تبدیلی‘ کا نام ہے کیونکہ وہ ایسے انسان ہیں جو عوام کا درد رکھتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا بھی پڑسکتا ہے لیکن ہماری کوشش ہے کہ ایسا نہ کرنا پڑا۔
لاہورمیں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب کے لیے ایسا انسان چنا جس پر آنکھ بند کرکے بھروسہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس صوبے کا بجٹ سب سے زیادہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے لیے مشکل وقت ہے لیکن عوام دیکھیں گے کہ سو روز میں بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی تو ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ جب قرض لینے پڑیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ملک کی حالت خراب ہے اور ہمیں ملک اسی حالت میں ملا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب بڑے پیمانے پر قرض چڑھ جائے تو حالات کس نوعیت کے ہوں گے ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت قوم پر 30000 ارب ڈالرز کا قرضہ ہے جبکہ ہمارا بیرونی قرضہ 60 ملین ڈالرز سے 95 ملین ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور حالیہ خسارہ (2018) 16 ملین ڈالرز تک جاچکا ہے جب کہ 2013 میں یہ دو ملین ڈالرز تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ سب بتانے کامقصد انہیں سچائی سے آگاہ کرنا ہے کہ ہمیں ملک مشکلات میں ملا ہے لیکن آنے والا وقت بہتر ہوگا مگر کچھ وقت لگے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات بہتر کرنے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ باہر لے جایا گیا ملک کا پیسہ واپس لایا جائے لیکن اس میں وقت لگے گا۔ وازیراعظم نے بتایا کہ کبھی کسی نے اس پر کام نہیں کیا لیکن ہمارا پہلا ٹارگٹ یہ ہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریکوری یونٹ بنا رہے ہیں جو باہر سے پاکستان کا پیسہ واپس لانے کے لیے کام کرے گا اور یہ یونٹ بیرون ممالک سے معلومات اکھٹی کرے گا۔
لاہور کے دو روزہ دورےکے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں نیب کےچیئرمین سے کچھ باتوں پر اختلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا چیئرمین نیب کہتے ہیں کہ پہلے الیکشن ہوجائے پھر کیسز پر کام ہوگا اور دوسری جانب ن لیگ بولتی ہے کہ الیکشن کو متاثر کیا جارہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی قوم سے وعدہ کیا ہے کہ کسی کو نہیں چھوڑیں گے اور کرپشن کا خاتمہ کرکے ہی دم لیں گے۔ اس وقت ملک میں عوام کو بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں ہیں اور کسی کو آج تک فکر ہی نہیں تھی لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو احتجاج کرکے بلیک میل نہیں کیا جاسکتا، ساری دنیا میں سیاست دان اور رہنما گرفتار ہوتے ہیں وہاں تو کوئی شور نہیں مچاتا کہ جمہوریت کو خطرہ لاحق ہوگیا جس کی سب سے بڑی مثال چین اور دیگر ممالک ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہاں کسی کو گرفتار کرلیا جائے تو فورا ہی جمہوریت کو خطرات لاحق ہونے کا شور مچا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن کی پوری یونین ہے اسی لیے کرپشن پر سب مل جاتے ہیں۔
انہوں نے نیب چیئرمین کو کہا کہ نیب کو جو مدد چاہیے حکومت دینے کو تیارہے اور ابھی بھی مکمل تعاون کررہے ہیں۔ ایف آئی اے آج جو کام کررہی ہے اس سے قبل کیوں نہیں ہوا؟ان کا سوال تھا کہ کیوں کسی نے اس حوالے سے کام نہیں کیا؟
وزیراعظم نے بتایا کہ ابھی تک کئی ایکڑ زمین ریکور کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو ہمیں کومعلومات فراہم کرے گا اس کو مکمل تحفظ دیں گے۔
بلدیاتی نظام پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نظام کے لیے ایک نیا نظام لے کر آرہے ہیں جو کامیاب ہوگا اور اس سے نچلے طبقے کو اوپر آنے کا موقع ملے گا۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نیب تو آزاد ہے لیکن کرپشن تب ختم ہوگا جب انصاف سے کام لیا جائے گا۔ کرپشن ملک کو تباہ کردیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت اداروں کی بہتری کے لیے کام کررہی ہے اور انہیں ٹھیک کرنے کے لیے ہی ٹاسک فورس بنا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب پیسے والوں پر ٹیکس لگے گا تو غریب آدمی کو ریلیف ملے گا لیکن اس میں وقت لگے گا۔
