اسلام آباد: وفاق کی جانب سے نیشنل فائنانس کمیشن (این ایف سی) کی تشکیل کے لیے مطلوبہ گزارشات صوبوں کی جانب سے مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے دوبارہ صوبائی حکومتوں کو این ایف سی کمیشن کے لیے نان سٹیچری ممبران جلد از جلد نامزد کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
اس سے قبل وزیر خزانہ کی جانب سے صوبائی وزرائے اعلی کو ستمبر کے آغاز میں خط لکھا گیا تھا جس میں پچھلی حکومت کے نمائندگان کی تصدیق یا نئے ممبران کی نامزدگی کے بارے میں درخواست کی گئی تھی تاکہ 9ویں این ایف سی کمیشن کی تشکیل دی جا سکے۔
حال ہی میں وزارت خزانہ کی جانب سے تمام صوبائی سیکریٹریز محکمہ خزانہ کو دوبارہ مراسلہ لکھا گیا ہے مگر صوبوں کی جانب سے کوئی خاطرخواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
صوبائی حکومتوں کی جانب سے اس رویے کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ وفاقی حکومت صوبوں کے بجٹ میں کمی کی خواہاں ہے اور صوبے کسی بھی صورت اس کے لیے تیار نہیں ہیں جبکہ آئینی اعتبار سے وفاق صوبوں کو بجٹ کا 57 فیصد حصہ دینے کا پابند ہے۔
ہم نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا تھا کہ وفاق کو کسی صورت بھی صوبوں کا حصہ کم نہیں کرنا چاہیئے بلکہ اس میں اضافہ کی طرف توجہ دینی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کو صوبوں کا حصہ بڑھانا اور اس کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
ڈاکٹر وقار کا کہنا تھا کہ وفاق کے ذمہ اخراجات کے ضمن میں تین اہم امور ہیں جن میں وفاقی پبلک ایڈمنسٹریشن، دفاعی امور و وفاق کے ماتحت ادارے اور زیرانتظام آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کے علاقے شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اصل وفاقی بجٹ ان ذمہ داریوں کے بجائے پبلک سیکٹراداروں جیسا کہ پاکستان انٹرنیشل ایئرلائن (پی آئی اے)، پاکستان ریلوے اور توانائی کے گردشی قرضوں کی ادائیگیوں میں لگ جاتا ہے۔
ان کی رائے تھی کہ صوبوں کو بجٹ میں زیادہ حصہ دینا چاہیئے تاکہ سوشل سیکٹر، صحت اور تعلیم وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جا سکے۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلیپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) سے وابستہ ماہر معاشیات محمد علی کیمال کا کہنا ہے کہ وفاق اس مطالبے میں بلکل حق بجانب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک صوبوں میں سوشل سیکٹر پر اخراجات کا سوال ہے تو درحقیقت اس پر مزید رقم خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔
علی کیمال نے وضاحت کی کہ وفاق کو سی پیک اور اس جیسے دیگر بیرونی سرمایہ کاری کے منصوبوں اور اسی طرح بھاشا، داسو اور پونجی ڈیم جیسے منصوبوں کے لیے بڑی لاگت درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان تمام اخراجات کے لیے صوبوں کے بجٹ میں کمی بہت ضروری ہے۔
علی کمال نے اس امر کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سرمایہ کاری اور انسانی ترقی کے منصوبوں کو الگ رکھا جائے تاکہ ترجیحات کا بہتر تعین کیا جاسکے۔
