کراچی: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی رابطہ کمیٹی نے ڈاکٹر فاروق ستار کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی سخت مذمت کی ہے۔ رابطہ کمیٹی نے مقدے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے سیاسی انتقام قرار دیا۔
رابطہ کمیٹی نے وزیراعلی سندھ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس زیادتی کا نوٹس لے کر بے بنیاد مقدمے کو ختم کرائیں اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے والے افسر کے خلاف کارروائی کا حکم دیں۔
اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ مظاہرہ غیر سیاسی تھا اور وہ مظاہرہ ختم کرانے کے لیے خود تھانے گئے۔
انہوں نے کہا کہ وہ لاپتہ لڑکی کے لواحقین کا دکھ محسوس کر کے اس مظاہرے میں شامل ہوئے اور وہ آئندہ بھی عوامی نمائندہ کی حیثیت سے عوام کے مسائل پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔
فاروق ستار نے کہا کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس گلشن چاہیں تو ان کے خلاف اور مقدمے بھی درج کر لیں۔
اس حوالے سے رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ فاروق ستار پریشان حال والدین اور اہلیان علاقہ کے احتجاج میں شریک ہو کر ان کی داد رسی کی کوشش کر رہے تھے۔
کمیٹی کا کہنا ہے کہ مظاہرین کے مطالبات جائز ہیں اور وہ پولیس اور حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ اسٹریٹ کرائم اور اغوا کی وارداتوں کے خلاف سنجیدہ اقدامات کئے جائیں۔
کمیٹی کے مطابق والدین اور اہلیان علاقہ یہ احتجاج ڈاکٹر فاروق ستار کے کہنے پر نہیں بلکہ اپنے طور پر کر رہے تھے۔
گذشتہ روز کراچی کے علاقے پیر الٰہی بخش کالونی میں ایک لڑکی کی گمشدگی پر لڑکی کے والدین اور اہلیان علاقہ نے احتجاج کیا اور ہنگامہ آرائی کی۔
لڑکی کی گمشدگی کے تین گھنٹے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔ اس کے اسکول کا ایک لڑکا بھی غائب ہوا تھا، بعد ازاں دونوں واپس آ گئے تھے۔
کراچی پولیس چیف ڈاکٹر امیر شیخ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ چند عناصر یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں۔
پولیس چیف نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں بچوں کےاغوا، جلاؤ گھیراؤ اور مظاہروں میں ملوث مشتبہ سیاسی افراد کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔
