اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ بحریہ ٹاؤن کو غیرقانونی طریقے سے زمین دی گئی، انہیں چاندی کے بدلے سونا دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ میں بحریہ ٹاؤن نظرثانی کیس کی سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سرحد پر 300 میل دور زمین دے کر ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی قیمتی زمین ہتھیا لی گئی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے ملک ریاض سے کہا کہ ایک ڈیم 1500 ارب میں بنتا ہے، آپ بنا دیں، جس پر ملک ریاض نے جواب دیا کہ میری اوقات 50 ارب روپے کی بھی نہیں۔
اس موقع پر ملک ریاض نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وہ اپنے تمام اثاثوں کا 25 فیصد ڈیم کے لئے دیں گے۔
اس موقع پر عدالت میں موجود وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر نے اگرچہ اختلافی نوٹ لکھا ان کی بنچ میں موجودگی ضروری تھی۔
انہوں نے کہا کہ اگر اس منصوبے میں کوئی شراکت دار ہے تو وہ ایم ڈی اے ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایم ڈی اے کو کتنا نقصان ہوا تو ان کے وکیل نے کہا کہ ایم ڈی اے کو کوئی نقصان نہیں ہوا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایم ڈی اے کہتی ہے نقصان نہیں ہوا، سندھ حکومت بھی یہی کہتی ہے، سب ملے ہوئے ہیں۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم یہاں ملیر کو اراضی واپس دینے کی سوچ رہے ہیں اور ملیر کہتا ہے کہ ہمیں اراضی چاہیے ہی نہیں۔ کیوں نہ ہم ایم ڈی اے کے مینیجنگ ڈائریکٹر کو ہی جیل بھیج دیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعلی سندھ کے پاس ملیر ڈیویلپمنٹ اراضی کے تبادلے کا اختیارنہیں تھا، یہاں تو وزیراعظم کو کھوکا الاٹ کرنے کا اختیار نہیں تو وزیراعلی نے کیسے یہ اختیار استعمال کیا۔
انہوں نے بحریہ ٹاؤن کے وکیل علی ظفر سے کہا کہ ملک ریاض کو کہہ دیں کہ وہ ڈیمز فنڈ میں 100 ارب دے دیں۔
دوران سماعت چند خواتین روسٹرم پر آ گئیں، انہوں نے بات کرنا چاہی تو عدالت نے انہیں بولنے سے روک دیا، چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں قومی مفاد عزیز ہے، آپ کے وکیل موجود ہیں انہیں سن لیں گے۔
ایک موقع پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ عدالت کے 184 (3) کے اختیار میں ترمیم کی جائے لیکن ایسا نہیں ہو سکا لیکن سپریم کورٹ اپنے قواعد میں تبدیلی لائے۔
انہوں نے کہا کہ 184 (3) کے کیسز میں نظرثانی کے بجائے اپیل کا حق ہونا چاہیے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ پھر اپنا اختیار استعمال کر کے 184 (3) کے دائرہ اختیار کو ختم کر دیں۔
اعتزازاحسن نے کہا کہ ہم اسی کوشش میں تھے لیکن ہماری حکومت ہی نہیں آئی۔ اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ ہم اس کیس میں غریب سرمایہ کاروں کا نقصان نہیں ہونے دیں گے۔
ایک موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ ملک ریاض کو نیب کی کارروائی سے کیوں خوف ہے، باقی لوگ نیب میں اپنے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں تو ملک ریاض کیوں نہیں کر سکتے۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ بحریہ ٹاؤن نظرثانی کیس کی سماعت کر رہا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی۔
