کراچی: کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والے بریک ڈاؤن کے متعلق کے الیکٹرک نے دعوی کیا ہے کہ نیشنل گرڈ سے معطل سپلائی مکمل بحال ہوچکی ہے جس کے بعد صورتحال میں مزید بہتری آرہی ہے۔
ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق نارتھ کراچی، عزیزآباد، سرجانی ٹاؤن اور لانڈھی کے علاقوں می بجلی کی فراہمی بحال ہو گئی ہے جب کہ دیگر متاثرہ علاقوں میں بحالی کا عمل جاری ہے۔
Power update:
Electricity supply in most parts of the city has been restored along with full supply being received from the national grid. 1/2— KE (@KElectricPk) October 4, 2018
قبل ازیں کراچی میں رواں ہفتے دوسری بار بجلی کی فراہمی بڑے پیمانے پر معطل ہونے سے 40 فیصد سے زائد شہر متاثر ہوا تھا۔
ہم نیوز کے مطابق بجلی کی ہائی ٹینشن لائن ٹرپ ہونے کے سبب 40 فیصد رہائشی علاقہ کئی گھنٹوں تک بجلی سے محروم رہا۔
بجلی کے حالیہ بحران کا نشانہ بننے والے متاثرہ علاقوں میں سرجانی ٹاؤن، نارتھ کراچی، نیو کراچی، ایف بی ایریا، گلستان جوہر، اولڈ صدر، آئی آئی چندریگر روڈ اور ناظم آباد بھی شامل تھے۔
بجلی فراہمی کے ذمہ دار ادارے کےا لیکٹرک کی جانب سے صارفین کو مطلع کیا گیا تھا کہ ہائی ٹینشن لائن ٹرپ ہونے کے سبب نشینل گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی سپلائی معطل ہوئی ہے۔
کے الیکٹرک نے بذریعہ ٹویٹ آگاہ کیا کہ بجلی کی بحالی کا عمل شروع کیا جارہا ہے، صارفین کو تازہ ترین صورتحال سے آگاہ رکھا جائے گا۔
Karachi is experiencing disruption in power supply due to tripping in the EHT Network.
Supply from National Grid to the city is off.
Restoration work is underway.
We will keep you posted on further updates.— KE (@KElectricPk) October 4, 2018
کراچی کو بجلی فراہمی کے ذمہ دار نجی ادارے کی جانب سے اپنے پیغام میں بریک ڈاؤن کے خاتمے کا وقت نہیں دیا گیا تھا۔
رواں ماہ اکتوبر کے آغاز میں بھی تکنیکی وجوہات کے باعث نیشنل گرڈ اسٹیشن سے بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی جس کے سبب طلب اور رسد میں فرق 700 میگا واٹ سے تجاوز کر گیا تھا۔
بجلی کی فراہمی معطل ہونے کے سبب مختلف مقامات بشمول صدر، گلشن، ملیر، شاہ فیصل، نارتھ کراچی، لیاقت آباد ،عزیز آباد، ڈیفنس، کھارادر اور ٹاور کے علاقے متاثر ہوئے تھے۔
صارفین نے شکایت کی تھی کہ نصف شب کے بعد چار سے چھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ معمول بن چکی ہے اور یہ سلسلہ دس روز سے جاری ہے۔ علاوہ ازیں دن بھر ہر دو گھنٹے بعد دو گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے پلان پر بھی عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ عوام نے وزیراعظم اور گورنر سندھ سے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔
