اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ نان فائلرز کو گھر اور گاڑی خریدنے کے لیے دی جانے والی چھوٹ واپس لے لی گئی ہے۔ اب جو ریٹرن فائل کرے گا وہی گھر اور گاڑی خریدنے کا اہل ہو گا۔
اسد عمر نے قومی اسمبلی اجلاس میں نائن فائلر کے لیے زمین اور گاڑی خریدنے پر دوبارہ پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بڑے نان فائلرز کے خلاف مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑے نان فائلرز کے خلاف مہم کا آغاز دو اکتوبر سے ہوچکا ہے۔ اب جو ٹیکس ریٹرن فائل کرے گا وہی زمین اور گاڑی خریدے کا اہل ہو گا۔
اسد عمر نے کہا کہ ہمارا مجموعی قرضہ 12 سو ارب روپے تک پہنچ چکا ہے جب کہ گزشتہ سال میں گردشی قرضوں میں 453 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حوالہ ہنڈی پر قانون سازی میری ذمے داری تھی جب کہ عملدرآمد شہریار آفریدی کا کام ہے۔ جو کام یہ 40 سال میں نہ کرسکے ہم سے پوچھتے ہیں کہ 40 دن میں کیوں نہ کیے جب کہ مسلم لیگ نون کی حکومت نے تو بیواؤں کی پنشن روکی ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ نون کی حکومت کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کے دور میں بیرونی سرمایہ کاری زیادہ تھی اور مسلم لیگ نون ہم سے کہہ رہی ہے کہ آصف علی زرداری کے دور کے منصوبوں کا آڈٹ کریں۔
انہوں نے کہا کہ آج ریاست مدینہ کا ذکر کرنے والے کاش اپنی حکومت سے بھی سوال کرلیتے۔
ایوان میں فنانس ترمیمی بل کی شق وار منظوری کا سلسلہ شروع ہوا تو پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے شق وار منظوری کے عمل کو چیلنج کر دیا۔ جس کے بعد اسپیکر اسمبلی اسد قیصر نے بل کی شق وار منظوری کے لیے اراکین کی گنتی کرائی اور حمایت میں زیادہ ووٹ آنے پر بل کی شق وار منظوری کا سلسلہ شروع ہوا۔ اراکین نے ترمیمی فنانس بل کو شق وار منظور کر لیا۔
وفاقی وزیر خزانے کی تقریر کے بعد قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے ٹیکس نیٹ اور ریونیو کو بڑھانے کا اعلان کیا گیا تو ہم اس اقدام کی حمایت کریں گے۔ حکومت کی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کو تقسیم کرنے کی کوشش میں ناکام ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم تحریک انصاف کی بجلی کے دعوؤں پر تکیہ کر لیتے تو آج ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہوتا۔
اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹوزرداری نے کہا ہے کہ معیشت چندے سے، سیاست گالی سے اور ریاست جادو سے نہیں چل سکتی۔ تحریک انصاف حکومت کا پہلا بجٹ ہی اُن کے کیے گئے وعدوں کے بالکل برعکس ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں قومی ترانہ پیش کرنے کی قرار داد وزیر پارلیمانی امور علی محمد کی جانب سے پیش کی گئی جسے اراکین قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اب ایوان میں تلاوت اور نعت کے بعد قومی ترانہ بھی سنا جائے گا۔
ایوان میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی خصوصی کمیٹی میں سینیٹ ارکان کی شمولیت کی تحریک بھی منظور کر لی گئی۔ جس کے مطابق دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیٹی میں ایک تہائی نمائندگی سینیٹ اراکین کی ہو گی جب کہ کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومتی اراکین کی تعداد برابر ہو گی۔
