لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے لاہور کے مہنگے اسپتالوں سے متعلق عبوری فیصلے میں سی ای او پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کو حکم دیا ہے کہ پرائیویٹ اسپتالوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔
چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اتوار کے روز معاملے کی سماعت کی تھی جس کا عبوری فیصلہ آج جاری کیا گیا ہے۔ بینچ میں جسٹس اعجاز الحسن بھی شامل تھے۔
عبوری فیصلے کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ بہت سے پرائیویٹ اسپتال خلاف قانون تعمیر کیے گئے ہیں، کمرشلائزیشن سے سڑکوں اور انفراسٹرکچر میں مسائل پیدا ہوئے اور شہر کا ماسٹر پلان متاثر ہوا ہے۔
سپریم کورٹ نے مہنگے اسپتالوں سے متعلق اپنے عبوری فیصلے میں لکھا ہے کہ پرائیوٹ اسپتال کسی قانون کے بغیر ہی اضافی رقم وصول کررہے ہیں جب کہ مریضوں سے جو رقم وصول کی جا رہی ہیں وہ سامنے آنا ضروری ہیں۔
عدالتی فیصلے میں ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی حمید لطیف کو حکم دیا گیا ہے کہ اسپتالوں کی غیر قانونی تعمیر سے متعلق رپورٹ پیش کریں۔
عبوری فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسپتال اسٹنٹ ڈالنے کے لیے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ایک لاکھ روپے سے زائد رقم وصول کر رہے ہیں۔
