اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے این آر او کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔
منگل کے روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مشرف کو ایسے حالات میں پاکستان آنا پڑے جو ان کے لیے گریس فل نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو کمر کا مرض لاحق ہے تو یہاں آئیں علاج کرائیں گے۔ چک شہزاد فارم ہاوس صفائی ستھرائی کے لیے نعیم بخاری صاحب کو بھیجیں گے۔
سابق صدر کے وکیل اختر شاہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل پاکستان آنے کو تیار ہیں لیکن انہیں سیکیورٹی خدشات ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ ہم مشرف کو مستقل سیکورٹی فراہم کرتے ہیں، سابق صدر واپس آئیں انہیں گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
گزشتہ سماعت پر سابق صدر کے وکیل نے استدعا کی تھی کہ پرویز مشرف کو وطن آکر واپس جانے کی اجازت دی جائے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ واپس جانے کی اجازت خصوصی عدالت دے گی ان کا 342 کا بیان ضروری ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ مشرف بری ہوجائیں جہاں چاہیں گھومیں۔
چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے تھے کہ سابق صدر کو تمام سفری دستاویزات فراہم کریں گے، رینجر پرویز مشرف کا ائیر پورٹ پر استقبال کرے گی اور اگر وہ ہفتے کو آنا چاہیں تو بھی عدالت لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سابق صدر کو ائیرپورٹ پر سیکیورٹی کا رستہ بھی مل جائے گا۔
