راولپنڈی: پوسٹ گریجویٹ کالج کی 20 سالہ طالبہ عروج فاطمہ کی ہاسٹل میں پراسرار موت واقع ہوئی ہے جسے ساتھی طالبات نے انتظامیہ کی غفلت قرار دے کر کارروائی کا مطالبہ کر دیا ہے۔
واقعہ پر طالبات نے بھرپور احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ رات گئے عروج کی طبیعت خراب ہوئی اور وہ رات بھر تڑپتی رہی مگر ہاسٹل وارڈن نے اسے اسپتال منتقل نہ کیا جس کی وجہ سے وہ جان کہ بازی ہار گئی۔
طالبات کا کہنا ہے کہ ہاسٹل وارڈن کو بار بار بتایا جا تا رہا کہ عروج بہت تکلیف میں ہے مگر انہوں نے ایک درد کش دوا دے کر اپنی نیند کو ترجیح دی۔
واقعہ پر کالج انتظامیہ کا کہنا ہے طالبہ عارضہ قلب کی مریضہ تھی اور اچانک طبیعت بگڑنے پر جانبر نہ ہو سکی۔
طالبہ کے ماموں کالج انتظامیہ کے موقف سے اتفاق نہیں کرتے بلکہ ان کا کہنا ہے ہماری بچی مالکل صحت مند تھی اور اس کی موت کے ذمہ دار کالج کی پرنسپل اور انتضامیہ ہیں۔
عروج فاطمہ کا پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد اس کی میت آبائی علاقے پہنچا دی گئی ہے جبکہ اسپتال ذرائع کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں طالبہ کی موت طبی ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔
لواحقین اور طالبات کی شکایت پر پولیس نے ہاسٹل وارڈن کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
