اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما رانا افضل نے کہا ہے کہ فواد چوہدری جیسے لوگوں کا پی ٹی آئی کی نمائندگی کرنا افسوسناک ہے، یہ لوگ بہت جگہوں سے گھوم پھر کر تحریک انصاف میں پہنچے ہیں۔
ہم نیوز کے پروگرام ’بڑی بات‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لوگ ناتجربہ کار ہیں، انہیں کسی بات کا علم نہیں، ہم نے اگر قرض لیا تو معشیت کی شرح نمو کو بھی اوپر لے کر گئے۔
ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ دانشمندی کا راستہ یہ ہے کہ آپ سستے قرضے لے کر منصوبے بنائیں۔
پروگرام میں موجود پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما عاجز دھامرا نے امل عمر کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جہاں حکومت کی کوتاہی ہو گی اسے قبول کریں گے اور انصاف کی فراہمی ممکن بنائیں گے۔

سماجی کارکن جبران ناصر نے کہا کہ صوبے میں سرکاری سطح پر ہنگامی طبی امداد کی سروس نہ ہونا حکومت کی بہت بڑی غفلت ہے، پولیس کی غلطی کی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت جاگتے ہیں جب کوئی سانحہ پیش آتا ہے، امل کا معاملہ بھی اس کی ماں کی وجہ سے سامنے آیا ورنہ کسی کو پتا نہیں تھا۔
عاجز دھامرا نے کہا کہ اگر پولیس میں تربیت کے پروگرام نہیں ہوئے تو یہ کوتاہی ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ امل کی ہلاکت کے کیس پر مکمل کارروائی ہو گی۔
پروگرام میں شریک مہمان بی این پی مینگل کے رہنما ثںا اللہ بلوچ نے پناہ گزنیوں کی شہریت پربات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون پناہ گزینوں کو شہریت دینے کی حمایت نہیں کرتا۔ افغان پناہ گزینوں میں بلوچ بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم منطق اور دلائل پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم حکومت میں رہتے ہوئے حکومت کو پناہ گزنیوں کے معاملے پر سمجھائیں گے لیکن اگر بات حد سے آگے گئی تو حکومت ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔

