اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ بھارت نے امن کے عالمی دن پر پاکستان سے امن مذاکرات کرنے سے انکار کردیا ہے حالانکہ یہ ایک روٹین کی ملاقات تھی جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران ہونی تھی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی ایک ٹویٹ میں انہوں نے بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مذاکرات سے بھاگنے سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہو سکتی کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم سامنے آ چکے ہیں۔
Shame that on #InternationalPeaceDay India has refused to talk peace with Pakistan in even a routine manner at the @UN on the sidelines of the General Assembly. Running from talks won’t change the fact that this time Indian repression in Kashmir has been noticed in a UN report
— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) September 21, 2018
پاک بھارت مذاکرات منسوخ ہونے سے قبل انہوں نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والے پاک بھارت مذاکرات کو خوش آئند تو قرار دیا جا سکتا ہے لیکن ان سے توقعات قائم کرنا کسی طرح بھی ٹھیک نہیں۔
The Pak India foreign ministers meeting on the sidelines of UNGA should be welcomed but not burdened/misread with a slew of expectations.The Indians are at pains to distance it from dialogue. Why is it so difficult for Delhi to even talk about talks?
https://t.co/jQuE9GAYm7— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) September 21, 2018
ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت تعلقات کو بہتری کی جانب لے جانے کے لیے مذاکرات لازمی ہیں لیکن بھارت ہمیشہ ان سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔
انہوں نے لکھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ آخر دہلی کے لیے مذاکرات کے بارے میں بھی بات کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟
